تحریک تحفظ آئین پاکستان کا قافلہ 3 روزہ دورے پر اسلام آباد سے لاہور روانہ،معلوم افراد کا حملہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اپنی اسٹریٹ موبلائزیشن مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ مہم کی قیادت پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں اور قافلہ اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ یہ تین روزہ دورہ عوامی رابطہ مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد آئینی اقدار کے تحفظ اور
عوامی حمایت حاصل کرنا ہے۔محمود خان اچکزئی نے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم کسی کو فتح کرنے یا پتھر مارنے نہیں نکلے بلکہ ہمارا مقصد آئین کی حفاظت کرنا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں 28 فروری کو ملک گیر احتجاج اور سرگرمیوں کی کال دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 8 فروری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی، جس میں بسیں، ٹرک اور دیگر ٹرانسپورٹ بند رہیں گی، اور عوام پاکستان کی سڑکوں پر اپنی طاقت دکھائیں گے۔قافلے میں بڑی تعداد میں گاڑیاں شامل ہیں اور مختلف مقامات پر تحریک تحفظ پاکستان کے رہنماؤں کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہے۔ قافلے میں اپوزیشن اتحاد کے دیگر رہنما، بشمول معین قریشی، سینئر نائب صدر علامہ راجا ناصر عباس، نائب صدر مصطفی نواز کھوکھر، سیکرٹری جنرل اسد قیصر اور دیگر اہم رہنما شامل ہیں۔لاہور پہنچنے پر قافلہ سیاسی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں کرے گا، جبکہ کئی اہم سیاسی رہنما تحریک میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی پنجاب اسمبلی کا دورہ بھی کریں گے اور کوٹ لکھپت جیل میں قید رہنماؤں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید سے ملاقات کی کوشش کریں گے۔تحریک کے ترجمان نے کہا کہ یہ مہم آئین کی بحالی اور جمہوریت کی حفاظت کے لیے ہے اور عوام کو ظلم کے خلاف متحد کرنے کا آغاز ہے۔ قافلے کی روانگی کے بعد لاہور میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور رہنماؤں اور کارکنان کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حال ہی میں 27ویں آئینی ترمیم کی مذمت کی تھی اور ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ تحریک کے قائدین کا کہنا ہے کہ یہ عوامی رابطہ مہم آئین کی حفاظت اور شفاف انتخابات کے مطالبے کو مزید تقویت دے گی، اور لاہور میں عوامی اجتماعات، پریس کانفرنسز اور جیل میں قید رہنماؤں سے ملاقاتوں کا پلان بھی موجود ہے۔علاوہ ازیں نامزد اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی قیادت میں اسلام آباد سے لاہور جانے والے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے قافلے کو گجرات میں روک دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی طرف رواں دواں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے قافلے کو گجرات میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا جہاں پولیس کی پکڑ دھکڑ کے دوران نامعلوم افراد نے قافلے پر حملہ کیا اور قافلے میں شامل گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے، اس حوالے سے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں ایک نقاب پوش شخص کو لاٹھی سے گاڑیوں کے شیشے توڑتے اور پھر بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین ریاض قریشی نے کہا کہ ہم محمود خان اچکزئی، علامہ راجا ناصر عباس، تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی قیادت کو خوش آمدید کہتے ہیں، یہ قافلہ پْرامن ہے، جس کا مقصد صرف آئین و جمہوریت کی آگاہی ہے، پنجاب حکومت فسطائی رویوں سے باز رہے اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں نامزد قائدینِ حزبِ اختلاف کے آئینی وقار کا احترام کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تحریک تحفظ ا ئین پاکستان محمود خان اچکزئی اسلام ا باد رہنماو ں کہا کہ
پڑھیں:
آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
ملک کے بیشتر علاقوں میں آج بھی مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے کئی علاقوں میں موسلادھار بارش(Rain)، شہری سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور تیز آندھی کے باعث کمزور تعمیرات کو نقصان پہنچنے کا انتباہ جاری کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آج خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، اسلام آباد، پنجاب، شمال مشرقی بلوچستان، جنوب مشرقی سندھ اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے، جبکہ کئی علاقوں میں موسلادھار بارش بھی ہو سکتی ہے۔ ، جبکہ خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ، شمال مشرقی بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل اور شدید بارشوں کے باعث خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے، جبکہ کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے برساتی نالوں میں طغیانی آ سکتی ہے۔
محکمہ کے مطابق گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب اور پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ تیز آندھی، موسلادھار بارش اور آسمانی بجلی کے باعث سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں، بل بورڈز اور دیگر کمزور تعمیرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اسلام آباد اور گردونواح میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے ساتھ تیز ہواؤں، گرج چمک اور بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ چند مقامات پر موسلادھار بارش کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں دیر، چترال، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، مالاکنڈ، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، پشاور، مردان، نوشہرہ، چارسدہ، صوابی، کوہاٹ، کرم، ہنگو، کرک، لکی مروت، بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بعض علاقوں میں موسلادھار بارش متوقع ہے۔
مزیدپڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ، حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا
پنجاب میں راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، لاہور، ننکانہ صاحب، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، خوشاب، سرگودھا، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، نورپور تھل، بھکر، میانوالی، لیہ، بہاولپور، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان، تونسہ، ملتان، خانیوال، لودھراں، مظفرگڑھ، کوٹ ادو، رحیم یار خان اور راجن پور میں بارش کا امکان ہے، جبکہ خطہ پوٹھوہار اور شمال مشرقی و جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں شدید بارش ہو سکتی ہے۔
سندھ میں تھرپارکر، مٹھی، اسلام کوٹ، نگرپارکر، سکھر، گھوٹکی، سانگھڑ، لاڑکانہ، جیکب آباد، حیدرآباد، شہید بینظیر آباد، جامشورو، شہدادکوٹ، ٹھٹھہ، بدین، میرپورخاص اور دادو میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ دیگر ساحلی علاقوں میں ہلکی بارش یا بوندا باندی ہو سکتی ہے۔
بلوچستان میں ژوب، موسیٰ خیل، شیرانی، لورالائی، بارکھان، کوہلو، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، پشین، چمن، کوئٹہ، زیارت، قلات، خضدار، آواران اور لسبیلہ سمیت مختلف علاقوں میں بارش اور چند مقامات پر شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
آزاد کشمیر میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش اور کئی علاقوں میں موسلادھار بارش جبکہ گلگت بلتستان میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر تیز بارش متوقع ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بالائی سندھ میں بارش ریکارڈ کی گئی۔ سب سے زیادہ بارش لاہور میں ہوئی، جہاں ایئرپورٹ پر 229 ملی میٹر، تاجپورہ میں 146، کاہنہ میں 135، شادی پورہ میں 124، مغل پورہ میں 122، اپر مال میں 107، مناواں میں 94 اور جوہر ٹاؤن میں 76 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ نارووال میں 76، شیخوپورہ میں 66، سیالکوٹ شہر میں 42، گوجرانوالہ میں 36، مری میں 18، قصور میں 15 اور اسلام آباد کے سیدپور میں 20 ملی میٹر بارش ہوئی۔
خیبرپختونخوا میں مالم جبہ میں 28، پٹن میں 13، پاراچنار میں 12، تخت بھائی میں 10 ملی میٹر جبکہ بلوچستان کے بارکھان میں 22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ گلگت بلتستان میں بونجی میں 8، گلگت میں 6 اور کشمیر کے مظفرآباد ایئرپورٹ پر 7 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ سندھ میں جیکب آباد میں 5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کے باعث ملک کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ آج ریکارڈ کیے گئے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کے مطابق دالبندین میں 45 جبکہ تربت اور نوکنڈی میں 43 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام آباد میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31، لاہور 30، کراچی 36، پشاور 33، کوئٹہ 37، گلگت 29، مظفرآباد 31، مری 21، فیصل آباد 35 اور ملتان میں 36 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور شہری سیلاب کے خدشات کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے گریز کریں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور خراب موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔