اسکولوں کی چھٹیوں میں اضافے سے متعلق اہم خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے سردیوں کی چھٹیوں میں توسیع سے متعلق پھیلنے والی خبروں کی تردید اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے کی، جہاں انہوں نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا نوٹیفکیشن جعلی ہے۔وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ صوبے بھر کے تمام اسکولز اور کالجز پہلے سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ہی کھلیں گے اور تعلیمی ادارے 12 جنوری سے باقاعدہ طور پر دوبارہ کھل جائیں گے۔رانا سکندر حیات کے مطابق محکمہ تعلیم کی جانب سے تعطیلات میں اضافے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا اور پنجاب کے تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں کسی قسم کی توسیع نہیں کی جارہی۔انہوں نے والدین، طلبہ اور اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے صرف مستند اور سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر ہی انحصار کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔