خیبر پختونخوا میں آپریشن کا مقصد تحریک انصاف کو ختم کرنا ہے، وزیراعلیٰ کے پی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
دورہ کراچی کے موقع پر سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اگر مجھے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بات چیت پر بلائیں گے تو میں لازمی جاؤں گا، وفاق، کے پی حکومت، سیاسی جماعتیں اور سیکورٹی ادارے مل کرخیبر پختونخوا میں قیام امن کے لیے راستہ نکالیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہم صرف ٹی ٹی پی نہیں بلکہ تمام دہشت گرد تنظیموں کی مخالفت کرتے ہیں، خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز سے امن قائم نہیں ہوگا، کے پی میں آپریشن کا مقصد عمران خان اور پی ٹی آئی کو ختم کرنا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی تین روزہ دورے کے سلسلے میں دوپہر 1 بج کر 55 منٹ پر کراچی پہنچے اور پھر ریلی کی قیادت کرتے ہوئے باغ جناح پہنچے۔ جہاں انہوں نے اتوار کو ہونے والے انتظامات کا جائزہ لیا۔ ایئرپورٹ سے باغ جناح اور پھر کراچی پریس کلب تک جگہ جگہ وزیراعلیٰ اور اُن کے ساتھ چلنے والی ریلی کا استقبال کیا گیا جبکہ اس موقع پر پی ٹی آئی کے کارکنان بانی کے حق میں نعرے بازی بھی کرتے رہے۔
باغ جناح سے وزیراعلیٰ قافلے کی صورت میں کراچی پریس کلب پہنچے جہاں میٹ دی پریس سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے حوالے سے میرا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے، خیبر پختونخوا میں امن ملٹری آپریشن سے قائم نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اگر مجھے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بات چیت پر بلائیں گے تو میں لازمی جاؤں گا، وفاق، کے پی حکومت، سیاسی جماعتیں اور سیکورٹی ادارے مل کرخیبر پختونخوا میں قیام امن کے لیے راستہ نکالیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ کسی سے بھی قسم کے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کے پاس ہے وہی یہ معاملہ دیکھیں گے۔بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی رہائی کے لیے اسٹریٹ موومنٹ شروع کی ہے اور اس سلسلے میں 11 جنوری کو باغ جناح کراچی میں پی ٹی آئی کی جانب سے جلسہ بھی منعقد کیا جارہا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی نے صحافیوں سے تاخیر سے پہنچنے پر مذرت کی اور کہا کہ کارکنان کے بہترین استقبال کی وجہ سے میں دیر سے پہنچا ہوں ۔میرا یہاں آنے کا مقصد یہ ہے کہ عمران خان نے مجھے ذمہ داری دی ہے کہ اسٹریٹ موومنٹ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پنجاب گیا وہاں جو رویہ پنجاب میں ہمارے پارلیمنٹیرینز کے ساتھ کیا وہ شدید افسوسناک ہے، ہمیں وہ رویہ بالکل اچھا نہیں لگا۔ابھی عمران خان کی ہدایت پر سندھ کے دارالحکومت کراچی میں آیا ہوں میں یہاں اپنے تنظیمی اور سندھ کے دوستوں سے ملوں گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے جلسے کی درخواست دی ہوئی تھی ہم نے تمام لوازمات پورے لیے ہیں لیکن ابھی تک ہمیں جواب نہیں ملا ہے، ہم ان شاء اللہ 11 کو کراچی میں جلسہ کرنے جارہے ہیں جو تاریخی جلسہ ہوگا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ میرے لیڈر عمران خان نے حقیقی آزادی کی تحریک میں اقتدار پانا نہیں بلکہ اس میں آزاد قانون، آزاد میڈیا کی بحالی ہے، جس وجہ سے انکو یہ سزا ملی کہ وہ نا حق قید میں ہیں۔ انکی بیگم بشری بی بی نا حق قید میں ہیں عمران خان کی بہنیں اپنے بھائی سے ملنے اڈیالہ جاتی ہیں انکو ملنے نہیں دیا جاتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو بنیادی قید میں انسانی حقوق ہیں لیکن وہ ہمارے لیڈر عمران خان کو نہیں دیے جارہے ہیں، عمران خان کی فیملی سے ان کے رفقاء سے ملاقات نہیں ہونے دی جارہی ہے، میرا قائد سب سے مقبول ترین لیڈر ہے۔ میرے لیڈر عمران خان کی حکومت کو 9 اپریل کو غیرقانونی طور پر ختم کیا گیا، ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔ ہماری جنگ ذات کی نہیں اپ سب کی جنگ ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے صحافیوں کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا۔ وہ سب جانتے ہیں میں نام لے کر تھک جاؤنگا لیکن نام ختم نہیں ہونگے، آپ سب میڈیا والوں نے ہمارا ساتھ دینا یے، یہاں بھی وہی فسطائیت شروع ہے جو سب دیکھ رہے ہیں، صحافتی برادری اور سیاست دانایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ابھی تک ہمیں زرداری کی حکومت نظر آرہی ہے ، بھٹو کی حکومت نہیں ہے لیکن ہم ابھی مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی عوام پاکستان تحریک انصاف سے مطمئن ہے، پورے پاکستان میں خیبرپختونخوا کی حکومت عوام کے ووٹوں سے آئی ہے، عوام عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں جس وجہ سے تیسری بار عوام نے عمران خان کو موقع دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا میں انہوں نے کہا کہ فریدی نے کہا عمران خان کی سہیل ا فریدی کی حکومت کے لیے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔