Jasarat News:
2026-07-24@06:59:10 GMT

آپ کو مثال بننا ہوگا

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میں: آج تم کس سے اور کون سی مثال بننے کی بات کررہے ہو؟ کیوں کہ آج کا انسان تو انسان بننے کے لیے تیار نہیں ہے، کیا تم اس سے کسی مثال بننے کا مطالبہ کررہے ہو؟

وہ: پہلے ذرا مثال کے لفظ پربات کرلیتے ہیں۔ مثال کا مطلب ہے تمثیل، تشبیہ، مشابہت، نمونہ وغیرہ۔ یعنی کسی شہ کو دیکھ کر اسے اس جیسی کسی دوسری چیز سے تشبیہ دینا یا اس کے مماثل کہنا۔ کسی نظریے یا خیال کو کسی مثال کے ذریعے واضح کرنا، اگر دیکھو تو ناٹک یا ڈراما بھی تمثیل ہی کی ایک شکل ہے۔ ساتھ ہی اگر غور کرو تو انسان کا ذہن کسی بات کو تمثیل یا ظاہری نمونے کی مدد سے جلد اور بآسانی سمجھ جاتا ہے۔ اور اسی حوالے سے ایک اور بات بھی بہت اہم ہے جو انسانی دماغ کی اس محدود تخلیقی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان ازل ہی سے اشیاء اور اجسام میں مشابہتوں کے ذریعے ان کے نام رکھتا رہا ہے اور اپنے علم وشعور کی بنیاد پر ان کی تفہیم بھی کرتا رہا ہے۔ ویسے جہاں تک تخلیق کی بات ہے تو انسانی ذہن ناموجود یا عدم سے کسی چیز کو تخلیق کرنے کی صلاحیت سے یکسر خالی ہے، یعنی وہ کوئی خیال ہو یا کسی مادی شے کی ایجاد، وہ اس دنیا میں پہلے سے موجود نظریات اور احکامات الٰہی کو پڑھ سن کر اپنے منفرد انداز اور اسالیب میں بیان کرتا رہا ہے یا مشاہدۂ کائنات کے ذریعے ہر دور میں نت نئی اشیاء ایجادات کرتا رہا ہے۔

میں: لیکن کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ ہم اپنی گفتگو انسان کی اس ازلی خواہش یا ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھائیں؟ یعنی ایک مثالی دنیا کو پانے یا اپنی دنیا کو مثالی بنانے کی جستجو۔

وہ: اصل میں انسان میں یہ جستجو ازل ہی سے اس کی ذات کا حصہ رہی ہے۔ وہ جنت کی جس مثالی دنیا سے اس زمین پر بھیجا گیا ہے، اس دنیا میں بھی اس کی ساری محنت وکوشش اسی آرام وسکون کی خواہش لیے ہوئے ہے جو اُس مثالی دنیا میں اُسے میسر تھی، مگر آج کا انسان اپنی اس وجودی حقیقت سے انکاری ہے۔ لیکن اسی حوالے سے یہ پہلو بھی زیر بحث آنا ضروری ہے کہ انسان اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے اپنے سے بہتر انسانوں کو رہنما اور ہدایت کا سرچشمہ سمجھتے ہوئے ان کی تعلیمات اور زندگیوں کو اپنے لیے نمونۂ عمل بناتا رہا ہے، وہ خدا کی جانب سے بھیجے گئے رسول اور پیغمبر ہوں یا اپنے علم، کردار اور صلاحیتوں کے بل پر شہرت پانے والے فلسفی اور مذہبی پیشوا۔

میں: اگر دیکھا جائے تو اللہ نے اپنے مثالی بندوں کے ذریعے اس زمین پر انسانوںکی ہدایت کا انتظام ٹھیک اُن کی نفسیات کے مطابق کیا ہے اور تاریخ کے کسی دور میں ایسا نہیں ہوا کہ یہ دنیا ہدایت کے ان بے مثال نمونوں سے خالی رہی ہو اور رشدو ہدایت کا یہ وہی تسلسل ہے جو نبی آخری الزماںؐ کی ذاتِ مبارک کی صورت میں چودہ سو سال پہلے قیامت تک کے انسانوں کے لیے آخرت میں نجات اور اسی مثالی جنت کے حصول کے مقصد کے تحت سب سے بہترین نمونہ بنا کر بھیجا گیا۔

وہ: تمہاری بات بالکل درست ہے اللہ کے رسول ؐکی زندگی میں صرف مسلمان ہی نہیں دنیا کے ہر انسان کے لیے ایمان کے عملی اظہار کی ہر مثال موجود ہے۔

میں: لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ کے رسولؐ کی زندگی کو اپنے لیے بہترین نمونہ سمجھنے والے مسلمانوں کی زندگیاں اس کے عملی اظہار سے یکسر خالی ہیں؟

وہ: یقینا ایسا ہی ہے کیوں کہ ہم نے اس بہترین نمونے سے کچھ ظاہری تراش خراش، کچھ روحانی کلمات اور کچھ پر اثر بیانات اپنی زندگیوں میں شامل کرکے دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ایک میٹھا میٹھا اور آسان راستہ اختیار کرلیا۔ اور اس سفر میں ہم نے جس خوشنما اسٹیکر کے ذریعے اپنی ایک ظاہری شناخت بنانے کی کوشش کی تھی وہ ہمارے وجود سے مکمل طور پر اُتر چکا ہے۔ کیوں کہ ہم نے اس بہترین نمونے کی سب سے بڑی بات جوکہ اخلاقیات کا درس تھا اسے ہر حوالے سے فراموش کردیا اور پائنچے اٹھا کر محض چار رکعت نمازکی ادائیگی زندگی کا واحد مطلوب ومقصود قرار پائی۔ اس حوالے سے ایک واقعہ جو میں نے کسی سے سنا تھا ذہن میں آگیا۔ جاپان میں کچھ مسلمان تبلیغ کی نیت سے گئے اور وہاں کے لوگوں کے اخلاق، نظم وضبط، ایمانداری، ایک دوسرے کے حقوق کا پاس اور ایسی ہی کچھ اور خوبیوں سے متاثر ہوکر ان سے کہا کہ آپ لوگ بہت اچھے ہیں، آپ کے اخلاق بہت بلند ہیں، آپ کی گلی محلوں اور گھروں میں صفائی ستھرائی بے مثال ہے۔ بس آپ کلمہ پڑھ لیں تو آپ کامیاب ہوجائیں گے، آپ لوگ بہت مثالی لوگ ہیں۔ وہاں موجود کچھ مقامی افراد نے انہیں جواب دیا کہ ہماری جو خوبیاں آپ نے گنوائیں ہیں اس کی تو آپ کے دین ِ اسلام میں کہیں زیادہ تاکید کی گئی ہے، لیکن ہماری معلومات کے مطابق آپ کا اپنا معاشرہ اس کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ آپ کا ملک

پاکستان دنیا کے بدعنوان ترین ملکوں میں سے ایک ہے، آپ برسوں سے آئی ایم ایف کے محتاج ہیں، قرض پہ قرض لیکر اپنا ملک چلارہے ہیں مگر ملک ہے کہ ٹھیک ہونے کو نہیں آرہا۔ آپ کی مسلسل بے ایمانیاں دیکھ دیکھ کر اب تو ہمارا ملک بھی آپ کی مدد کرنے کو تیار نہیں۔ رہی بات آپ کی اخلاقیات کی تو وہ بھی ہم سے کیا دنیا میں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ آپ کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوں یا کوئی اور محکمہ وہاں رشوت دیے بغیر عوام کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ ہم نے تو یہ بھی سنا ہے کہ تھانے میں دس پندرہ ہزارکی رشوت دیے بغیر کسی غریب کی ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوتی۔ آپ کا دین صفائی کو نصف ایمان کہتا ہے لیکن اپنی گلیوں، سڑکوں، محلوں کے بارے میں آپ ہم سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ وہ کسی شاعر نے کہا ہے ناں:

آپ ہی اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

ان جاپانیوں نے تبلیغ کے لیے آئے ہوئے مسلمانوں سے یہ بھی کہا کہ آپ ہمیں مسلمان کرنے سے پہلے خود اپنی اور اپنے معاشرے کے سدھار کی فکر کریں، جس طرح ہم جاپانی آپ کو مثالی لگے ہیں آپ بھی خود کو علم، عمل اور اخلاقیات کی مثال بنا کر پیش کریں۔ ہم نے تو اسلام پر ایمان نہ لاکر بھی اس کی نہ جانے کتنی اچھائیوں کو اپنایا ہوا ہے مگر آپ مسلمان تو ایمان والے ہوکر بھی بے ایمان رہ گئے۔ یہ تو بالکل وہی بات ہوگئی کہ ایک شخص صاف ستھرے کپڑے پہنے گٹر کے پانی میں کھڑا ہے اور دوسرا شخص جو خشکی پر محفوظ جگہ موجود ہے اسے یہ کہے کہ اپنا ہاتھ دو میں تمہیں اس سے بھی اچھی جگہ پہنچا دیتا ہوں۔ بقول میرؔ

کس طرح آہ خاکِ مذلت سے میں اٹھوں

افتادہ تر جو مجھ سے مرا دستگیر ہو

شرَفِ عالم.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ذریعے دنیا میں حوالے سے کے لیے ا رہا ہے اور اس

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل