Jasarat News:
2026-06-03@01:18:46 GMT

آپ کو مثال بننا ہوگا

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میں: آج تم کس سے اور کون سی مثال بننے کی بات کررہے ہو؟ کیوں کہ آج کا انسان تو انسان بننے کے لیے تیار نہیں ہے، کیا تم اس سے کسی مثال بننے کا مطالبہ کررہے ہو؟

وہ: پہلے ذرا مثال کے لفظ پربات کرلیتے ہیں۔ مثال کا مطلب ہے تمثیل، تشبیہ، مشابہت، نمونہ وغیرہ۔ یعنی کسی شہ کو دیکھ کر اسے اس جیسی کسی دوسری چیز سے تشبیہ دینا یا اس کے مماثل کہنا۔ کسی نظریے یا خیال کو کسی مثال کے ذریعے واضح کرنا، اگر دیکھو تو ناٹک یا ڈراما بھی تمثیل ہی کی ایک شکل ہے۔ ساتھ ہی اگر غور کرو تو انسان کا ذہن کسی بات کو تمثیل یا ظاہری نمونے کی مدد سے جلد اور بآسانی سمجھ جاتا ہے۔ اور اسی حوالے سے ایک اور بات بھی بہت اہم ہے جو انسانی دماغ کی اس محدود تخلیقی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان ازل ہی سے اشیاء اور اجسام میں مشابہتوں کے ذریعے ان کے نام رکھتا رہا ہے اور اپنے علم وشعور کی بنیاد پر ان کی تفہیم بھی کرتا رہا ہے۔ ویسے جہاں تک تخلیق کی بات ہے تو انسانی ذہن ناموجود یا عدم سے کسی چیز کو تخلیق کرنے کی صلاحیت سے یکسر خالی ہے، یعنی وہ کوئی خیال ہو یا کسی مادی شے کی ایجاد، وہ اس دنیا میں پہلے سے موجود نظریات اور احکامات الٰہی کو پڑھ سن کر اپنے منفرد انداز اور اسالیب میں بیان کرتا رہا ہے یا مشاہدۂ کائنات کے ذریعے ہر دور میں نت نئی اشیاء ایجادات کرتا رہا ہے۔

میں: لیکن کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ ہم اپنی گفتگو انسان کی اس ازلی خواہش یا ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھائیں؟ یعنی ایک مثالی دنیا کو پانے یا اپنی دنیا کو مثالی بنانے کی جستجو۔

وہ: اصل میں انسان میں یہ جستجو ازل ہی سے اس کی ذات کا حصہ رہی ہے۔ وہ جنت کی جس مثالی دنیا سے اس زمین پر بھیجا گیا ہے، اس دنیا میں بھی اس کی ساری محنت وکوشش اسی آرام وسکون کی خواہش لیے ہوئے ہے جو اُس مثالی دنیا میں اُسے میسر تھی، مگر آج کا انسان اپنی اس وجودی حقیقت سے انکاری ہے۔ لیکن اسی حوالے سے یہ پہلو بھی زیر بحث آنا ضروری ہے کہ انسان اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے اپنے سے بہتر انسانوں کو رہنما اور ہدایت کا سرچشمہ سمجھتے ہوئے ان کی تعلیمات اور زندگیوں کو اپنے لیے نمونۂ عمل بناتا رہا ہے، وہ خدا کی جانب سے بھیجے گئے رسول اور پیغمبر ہوں یا اپنے علم، کردار اور صلاحیتوں کے بل پر شہرت پانے والے فلسفی اور مذہبی پیشوا۔

میں: اگر دیکھا جائے تو اللہ نے اپنے مثالی بندوں کے ذریعے اس زمین پر انسانوںکی ہدایت کا انتظام ٹھیک اُن کی نفسیات کے مطابق کیا ہے اور تاریخ کے کسی دور میں ایسا نہیں ہوا کہ یہ دنیا ہدایت کے ان بے مثال نمونوں سے خالی رہی ہو اور رشدو ہدایت کا یہ وہی تسلسل ہے جو نبی آخری الزماںؐ کی ذاتِ مبارک کی صورت میں چودہ سو سال پہلے قیامت تک کے انسانوں کے لیے آخرت میں نجات اور اسی مثالی جنت کے حصول کے مقصد کے تحت سب سے بہترین نمونہ بنا کر بھیجا گیا۔

وہ: تمہاری بات بالکل درست ہے اللہ کے رسول ؐکی زندگی میں صرف مسلمان ہی نہیں دنیا کے ہر انسان کے لیے ایمان کے عملی اظہار کی ہر مثال موجود ہے۔

میں: لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ کے رسولؐ کی زندگی کو اپنے لیے بہترین نمونہ سمجھنے والے مسلمانوں کی زندگیاں اس کے عملی اظہار سے یکسر خالی ہیں؟

وہ: یقینا ایسا ہی ہے کیوں کہ ہم نے اس بہترین نمونے سے کچھ ظاہری تراش خراش، کچھ روحانی کلمات اور کچھ پر اثر بیانات اپنی زندگیوں میں شامل کرکے دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ایک میٹھا میٹھا اور آسان راستہ اختیار کرلیا۔ اور اس سفر میں ہم نے جس خوشنما اسٹیکر کے ذریعے اپنی ایک ظاہری شناخت بنانے کی کوشش کی تھی وہ ہمارے وجود سے مکمل طور پر اُتر چکا ہے۔ کیوں کہ ہم نے اس بہترین نمونے کی سب سے بڑی بات جوکہ اخلاقیات کا درس تھا اسے ہر حوالے سے فراموش کردیا اور پائنچے اٹھا کر محض چار رکعت نمازکی ادائیگی زندگی کا واحد مطلوب ومقصود قرار پائی۔ اس حوالے سے ایک واقعہ جو میں نے کسی سے سنا تھا ذہن میں آگیا۔ جاپان میں کچھ مسلمان تبلیغ کی نیت سے گئے اور وہاں کے لوگوں کے اخلاق، نظم وضبط، ایمانداری، ایک دوسرے کے حقوق کا پاس اور ایسی ہی کچھ اور خوبیوں سے متاثر ہوکر ان سے کہا کہ آپ لوگ بہت اچھے ہیں، آپ کے اخلاق بہت بلند ہیں، آپ کی گلی محلوں اور گھروں میں صفائی ستھرائی بے مثال ہے۔ بس آپ کلمہ پڑھ لیں تو آپ کامیاب ہوجائیں گے، آپ لوگ بہت مثالی لوگ ہیں۔ وہاں موجود کچھ مقامی افراد نے انہیں جواب دیا کہ ہماری جو خوبیاں آپ نے گنوائیں ہیں اس کی تو آپ کے دین ِ اسلام میں کہیں زیادہ تاکید کی گئی ہے، لیکن ہماری معلومات کے مطابق آپ کا اپنا معاشرہ اس کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ آپ کا ملک

پاکستان دنیا کے بدعنوان ترین ملکوں میں سے ایک ہے، آپ برسوں سے آئی ایم ایف کے محتاج ہیں، قرض پہ قرض لیکر اپنا ملک چلارہے ہیں مگر ملک ہے کہ ٹھیک ہونے کو نہیں آرہا۔ آپ کی مسلسل بے ایمانیاں دیکھ دیکھ کر اب تو ہمارا ملک بھی آپ کی مدد کرنے کو تیار نہیں۔ رہی بات آپ کی اخلاقیات کی تو وہ بھی ہم سے کیا دنیا میں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ آپ کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوں یا کوئی اور محکمہ وہاں رشوت دیے بغیر عوام کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ ہم نے تو یہ بھی سنا ہے کہ تھانے میں دس پندرہ ہزارکی رشوت دیے بغیر کسی غریب کی ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوتی۔ آپ کا دین صفائی کو نصف ایمان کہتا ہے لیکن اپنی گلیوں، سڑکوں، محلوں کے بارے میں آپ ہم سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ وہ کسی شاعر نے کہا ہے ناں:

آپ ہی اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

ان جاپانیوں نے تبلیغ کے لیے آئے ہوئے مسلمانوں سے یہ بھی کہا کہ آپ ہمیں مسلمان کرنے سے پہلے خود اپنی اور اپنے معاشرے کے سدھار کی فکر کریں، جس طرح ہم جاپانی آپ کو مثالی لگے ہیں آپ بھی خود کو علم، عمل اور اخلاقیات کی مثال بنا کر پیش کریں۔ ہم نے تو اسلام پر ایمان نہ لاکر بھی اس کی نہ جانے کتنی اچھائیوں کو اپنایا ہوا ہے مگر آپ مسلمان تو ایمان والے ہوکر بھی بے ایمان رہ گئے۔ یہ تو بالکل وہی بات ہوگئی کہ ایک شخص صاف ستھرے کپڑے پہنے گٹر کے پانی میں کھڑا ہے اور دوسرا شخص جو خشکی پر محفوظ جگہ موجود ہے اسے یہ کہے کہ اپنا ہاتھ دو میں تمہیں اس سے بھی اچھی جگہ پہنچا دیتا ہوں۔ بقول میرؔ

کس طرح آہ خاکِ مذلت سے میں اٹھوں

افتادہ تر جو مجھ سے مرا دستگیر ہو

شرَفِ عالم.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ذریعے دنیا میں حوالے سے کے لیے ا رہا ہے اور اس

پڑھیں:

مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں