Jasarat News:
2026-06-02@22:33:15 GMT

فریب ِ استغناء

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260110-03-5

 

محمد ادریس لاشاری

جدید انسانی تہذیب کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں ہے کہ اس نے خدا کے وجود کا شعوری انکار کر دیا ہے، بلکہ مہیب حقیقت یہ ہے کہ اس نے خدا کو انسانی زندگی کے لیے ’’غیر متعلق‘‘ (Irrelevant) اور غیر ضروری ثابت کرنے کا ایک مربوط تہذیبی منصوبہ مکمل کر لیا ہے۔ اگر ہم کلاسیکی الحاد کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں الحاد خدا سے ایک فکری جنگ لڑتا تھا، مگر آج کا دور ’’خدا کی بے دخلی‘‘ (Silent Eviction) کا دور ہے۔ جدیدیت نے بڑی خاموشی سے خدا کو کائنات کے مرکز سے نکال کر انسانی زندگی کے حاشیے پر دھکیل دیا ہے، جہاں وہ اب کوئی زندہ مسئلہ ہی نہیں رہا۔ یہ عمل محض ایک فلسفیانہ موقف نہیں بلکہ ایک وجودی رویہ ہے، جہاں انسان ’’خدا کے بغیر‘‘ اپنی کائنات کی تعمیر ِ نو کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس خاموش بے دخلی نے ایک ایسا ’’بند نظام‘‘ تخلیق کر دیا ہے جہاں انسانی ذہن اب مابعد الطبعیاتی سوالات کو بوجھ تصور کرتا ہے۔

اس تہذیبی استغناء کی فکری بنیاد ’’خود کفالت کے وہم‘‘ (Illusion of Self-sufficiency) پر رکھی گئی ہے۔ جدید انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو محض ایک آلے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک متبادل ’’نجات دہندہ‘‘ (Savior) کے طور پر اپنا لیا ہے۔ انسانی تاریخ کا ایک طویل حصہ عجز اور احتیاج سے عبارت تھا، جہاں بیماریاں، قدرتی آفات اور غیر یقینی مستقبل انسان کو کسی مافوق الفطرت مرکز کی طرف لے جاتے تھے، مگر آج ’’رسک مینجمنٹ‘‘ اور ’’ڈیٹا‘‘ نے دعا اور توکل کی جگہ لے لی ہے۔ آج کی اسمارٹ واچز، ہیلتھ ایپس اور انشورنس پالیسیاں انسان کو یہ یقین دلاتی ہیں کہ اب تقدیر اس کے اپنے ’’کنٹرول‘‘ میں ہے۔ یہاں ایک گہرا فلسفیانہ سوال سر اٹھاتا ہے کہ کیا سائنس خود یہ ثابت کر سکتی ہے کہ سائنس ہی علم کا واحد مستند ذریعہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ دعویٰ بذاتِ خود غیر سائنسی ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ جدید انسان نے ’’سائنٹزم‘‘ کو ایک نئے عقیدے کے طور پر اپنا لیا ہے تاکہ وہ کائنات پر اپنے مکمل غلبے کے خبط کو جائز قرار دے سکے۔

جب کائنات کے مرکز سے خدا کو بے دخل کیا گیا، تو اقتدار، قانون اور مابعد الطبعیاتی حکم کا وہ تخت خالی نہیں رہا، بلکہ اس پر ریاست، مارکیٹ اور میڈیا جیسے نئے ’’خدایانِ باطل‘‘ آ بیٹھے ہیں۔ جدید ریاست اب محض ایک انتظامی ڈھانچہ نہیں رہی، بلکہ وہ ایک حتمی اخلاقی مقتدر (Moral Authority) بن چکی ہے جو اپنی ضرورت کے تحت نیکی اور بدی کی نئی تعریفیں وضع کرتی ہے۔ ماضی میں قانون کی سند ’’خدا کا حکم‘‘ تھا، مگر آج قانون کی معتبریت صرف ’’حاکم کا فرمان‘‘ ہے۔ اسی طرح ’’مارکیٹ‘‘ نے انسانی اقدار اور زندگی کے مقصد کو اپنے قابو میں لے لیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اب محض ایک معاشی ماڈل نہیں بلکہ ایک ’’سیکولر مذہب‘‘ ہے جس کا اصل خدا سرمایہ ہے۔ مارکیٹ انسان کی حقیقی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بجائے اس کے اندر مصنوعی خواہشات پیدا کرتی ہے اور اسے یہ یقین دلاتی ہے کہ اس کی شناخت صرف اس کی خریداری کی قوت میں پوشیدہ ہے۔

اس تثلیث کا تیسرا ستون میڈیا ہے، جو جدید انسان کے لیے ’’حقیقت‘‘ کی تخلیق کرتا ہے۔ معروف مفکر مائیکل فوکو کے تصورِ طاقت کی روشنی میں دیکھا جائے تو میڈیا وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے طاقتور طبقات اپنی مرضی کی ’’سچائی‘‘ وضع کرتے ہیں اور اسے عوامی شعور کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ جو میڈیا کی اسکرین پر دکھایا جاتا ہے وہی سچ ہے، اور جو اسکرین سے غائب ہے وہ حقیقت میں بھی اپنا وجود کھو دیتا ہے۔ ان تینوں نئے خداؤں نے مل کر انسان کو جس ’’خود مختاری‘‘ (Autonomy) کا فریب دیا ہے، وہ درحقیقت ایک لامرئی غلامی ہے۔ انسان نے خدا کے سامنے جھکنا تو چھوڑ دیا، مگر اب وہ ریاست کے بدلتے قوانین، مارکیٹ کے تجارتی مفادات اور میڈیا کے مصنوعی بیانیوں کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ یہ وہ جدید بت پرستی ہے جس نے بندگی کا قبلہ تو بدل دیا مگر بندگی کی فطرت کو ختم نہ کر سکی۔

قرآنِ کریم جدید انسان کے اس مخصوص نفسیاتی اور تہذیبی رویے کو ’’استغناء‘‘ کے عنوان سے بیان کرتا ہے۔ یہ استغناء محض ایک انفرادی صفت نہیں بلکہ وہ ’’وجودی رویہ‘‘ ہے جہاں انسان اپنی مادی طاقت اور سائنسی علم کے زعم میں خود کو ’’خود کفیل‘‘ تصور کرنے لگتا ہے۔ قرآن اس رویے کی بدترین مثال فرعون کو قرار دیتا ہے۔ فرعون کا المیہ خدا کا محض فکری انکار نہیں تھا، بلکہ اس کا اصل جرم ’’خود خدائی‘‘ کا وہ دعویٰ تھا جو مادی طاقت پر مکمل کنٹرول سے پیدا ہوا تھا۔ فرعون نے جب یہ کہا کہ ’’میں تمہارا سب سے بڑا ربّ ہوں‘‘ تو وہ دراصل اپنی انتظامی طاقت اور وسائل کو اپنی الوہیت کی دلیل بنا رہا تھا۔ آج کا جدید انسان بھی خود کو ’’چھوٹا خدا‘‘ بنا کر اپنے مقدر کے فیصلے وحی کے بجائے اپنی خواہش کی بنیاد پر کر رہا ہے، جس کا نتیجہ مرکزیت کے خاتمے کی صورت میں نکلا ہے۔ جب انسان اپنے ’’عبد‘‘ ہونے کا ادراک کھو دیتا ہے، تو وہ کائنات کے اصل مرکز سے کٹ جاتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے انسانی وجود کا بکھراؤ شروع ہوتا ہے۔

خدا کو انسانی زندگی سے بے دخل کرنے کا حتمی نتیجہ کسی بڑی انسانی آزادی کی صورت میں نہیں، بلکہ ایک ہولناک ’’معنی کے بحران‘‘ کی شکل میں برآمد ہوا ہے۔ جدید تہذیب نے مادی آسائشیں اور ٹیکنالوجی کے انبار تو لگا لیے، لیکن زندگی سے وہ ’’مربوط داستان‘‘ رخصت ہو گئی جو وجود کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو ایک اکائی میں جوڑتی تھی۔ اب معنی کوئی ابدی حقیقت نہیں رہا، بلکہ شعور کا وہ ’’نقطہ ٔ فنا‘‘ (Vanishing Point) بن گیا ہے جہاں سے آگے ہر عقلی مکالمہ لایعنیت میں گم ہو جاتا ہے۔ جدید زندگی میں ’’کیسے جینا ہے‘‘ کے طریقے تو بڑھ گئے ہیں، مگر ’’کیوں جینا ہے‘‘ کا سوال وجود کے نقشے سے غائب ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید انسان اپنی ہی بنائی ہوئی مشینی دنیا میں ایک ’’اجنبی‘‘ محسوس کرتا ہے۔ جب زندگی کا کوئی ماورا (Transcendent) مقصد باقی نہ رہے، تو ہر مادی کامیابی ایک بوجھ بن جاتی ہے اور انسان ایک ایسے خلا کا شکار ہو جاتا ہے جسے دنیا کا کوئی بت پْر نہیں کر سکتا۔

اس صورتحال میں ’’اینگزائٹی‘‘ (Anxiety) اب محض ایک انفرادی طبی عارضہ نہیں رہی، بلکہ ایک ’’تہذیبی علامت‘‘ بن چکی ہے۔ یہ اس خود ساختہ خود مختاری کا لازمی نتیجہ ہے جس نے انسان پر اپنی زندگی کے ہر فیصلے کا بوجھ اس کی بساط سے زیادہ لاد دیا ہے۔ کسی ابدی مرکز اور لنگر (Anchor) کے بغیر یہ آزادی دراصل ’’اختیارات کی کثرت‘‘ (Choice Overload) کا وہ مہیب بوجھ ہے جہاں ہر انتخاب ایک نئی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔ جب ہر انتخاب کا مرکز صرف انسانی خواہش رہ جائے، تو آزادی سکون کے بجائے ایک لامتناہی بے کلی میں بدل جاتی ہے۔ انسان کی شناخت (Identity) اب ایک مستحکم حقیقت کے بجائے ایک سیال (Fluid) اور تھکا دینے والا پروجیکٹ بن چکی ہے، جسے ہر لمحہ بدلتے ہوئے سماجی تقاضوں کے تحت نئے سرے سے تخلیق کرنا پڑتا ہے۔

فکری سطح پر ایک اور گہرا تضاد یہ ہے کہ اگر انسانی ذہن محض ایک اندھے اور بے مقصد مادی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے، تو اس ذہن کے اخذ کردہ سچائی کے دعووں اور سائنسی نتائج پر خود سائنسی بنیادوں پر کیسے بھروسا کیا جا سکتا ہے؟ خود چارلس ڈارون نے اس ’’خوفناک شبہے‘‘ کا اظہار کیا تھا کہ کیا کسی بندر کے دماغ سے نکلنے والے نتائج پر کوئی بھروسا کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو غیر ضروری ثابت کرنے کی کوشش میں انسان نے درحقیقت خود کو ہی غیر ضروری اور ایک کائناتی حادثہ (Cosmic Accident) ثابت کر دیا ہے، جس کے ہونے یا نہ ہونے سے کائنات کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس فکری انتشار نے انسان کو مادی طور پر طاقتور تو بنایا ہے، مگر اسے کائنات کے اس عظیم سمندر میں بالکل تنہا اور غیر متعلق (Irrelevant) کر دیا ہے۔

تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ خدا انسانی زندگی کے لیے کوئی ’’اختیاری‘‘ انتخاب نہیں تھا، بلکہ وہ انسانی روح کا وہ واحد مرکز تھا جس کے بغیر زندگی کا پورا ڈھانچہ منہدم ہو جاتا ہے۔ جدید انسان کی ناکامی یہ نہیں کہ اس نے ترقی کر لی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس نے ترقی کے نام پر اپنی ’’عبدیت‘‘ کو قربان کر دیا ہے۔ عبدیت کا خاتمہ دراصل انسانی وقار کا خاتمہ ثابت ہوا ہے، کیونکہ بندگی سے نکل کر انسان نے خود کو محض مادی اسباب اور لایعنی خواہشات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ خدا غیر ضروری نہیں ہوا، بلکہ اس سے بے نیاز ہو کر انسان نے خود کو کائنات کے وسیع توازن میں غیر ضروری بنا لیا ہے۔ آج کا انسان اس تضاد میں جی رہا ہے کہ وہ پوری کائنات کو مسخر کرنے کا دعویٰ تو کرتا ہے، لیکن اپنے اندر کے ہولناک وجودی خلا کو پْر کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔

ریاست، مارکیٹ اور میڈیا کے بت دراصل وہ زنجیریں ہیں جنہوں نے انسانی روح کو قید کر رکھا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ کوئی شخص خدا کو مانتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس نے خدا کے تخت پر ان نئے خدایانِ باطل کو تو نہیں بٹھا رکھا؟ فرعون مر نہیں گیا بلکہ وہ جدید تہذیب کے اجتماعی شعور، معاشی نظاموں اور ٹیکنالوجی کے زعم میں منتقل ہو چکا ہے۔ اگر خدا کے بغیر جدید تہذیب کا یہ انسانی تجربہ بکھر رہا ہے اور معنی کا ہولناک بحران اسے نگل رہا ہے، تو ہمیں اس فکری جرأت کا مظاہرہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے خود ساختہ خداؤں کا احتساب کریں۔ اگر خدا واقعی ایک غیر ضروری مفروضہ تھا، تو اس کے بغیر انسان خود کو اتنا غیر ضروری اور اکیلا کیوں محسوس کر رہا ہے؟ اس سوال کا جواب کسی سائنسی لیبارٹری میں نہیں، بلکہ انسانی روح کی اس پکار میں چھپا ہے جو اپنے حقیقی مرکز کی واپسی کی تمنّائی ہے۔

محمد ادریس لاشاری.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انسانی زندگی کائنات کے محض ایک ا کر دیا ہے انسان کو زندگی کے کے بجائے بلکہ ایک کہ اس نے ہے کہ اس یہ ہے کہ ہے جہاں جاتا ہے دیتا ہے کے بغیر کرتا ہے بلکہ وہ خود کو خدا کے ہے اور خدا کو رہا ہے لیا ہے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی