گرین لینڈ پر امریکی دعوے پر ڈنمارک کی پھر سخت وارننگ اور اٹلی کی روس سے بات چیت کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
گرین لینڈ کے مستقبل پر امریکا اور ڈنمارک کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے نیٹو اور یورپی سیاست میں نئی بےچینی پیدا کر دی ہے، جبکہ یوکرین جنگ کے تناظر میں اٹلی نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ روس سے براہِ راست مذاکرات کا آغاز کرے۔ دونوں پیشرفتیں یورپ اور امریکا کے تعلقات اور خطے کے سلامتی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ پر کنٹرول کے لیے سخت مؤقف، صدر ٹرمپ نے طاقت کے استعمال کا اشارہ دے دیا
ڈنمارک کے رکنِ پارلیمنٹ اور دفاعی کمیٹی کے سربراہ راسمُس یارلوف نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر فوجی حملے کی کوشش کی تو ڈنمارک اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا، اگرچہ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ ڈنمارک کی فوج امریکا کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
"This is something we just can't do… there's no way we're going to hand them over to be Americans.
Danish MP Rasmus Jarlov says his country cannot even consider handing Greenland over to the United States, whatever President Trump says.
pic.twitter.com/NVrxbfaKKd
— Simon Gosden. Esq. #fbpe 3.5% ????????????????????????☠️???????? (@g_gosden) January 28, 2025
ان کے مطابق ایسے کسی اقدام کی کوئی وجہ یا جواز موجود نہیں، کیونکہ امریکا پہلے ہی دفاعی معاہدے کے تحت گرین لینڈ تک رسائی رکھتا ہے اور وہاں کان کنی سمیت دیگر سرگرمیوں کی اجازت حاصل ہے۔ یارلوف نے خبردار کیا کہ یہ صورتحال 2 نیٹو ممالک کے درمیان تباہ کن جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔
ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا نے طاقت کے ذریعے گرین لینڈ پر قبضے کی کوشش کی تو نیٹو کا آرٹیکل فائیو فعال کرنا پڑے گا، جو بالآخر اتحاد کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ کے پوشیدہ ‘خزانے’ جن کی وجہ سے امریکا اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے مختلف آپشنز زیرِ غور ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے امریکا کی قومی سلامتی کی ترجیح قرار دے چکے ہیں، اگرچہ امریکی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کا مؤقف خریداری پر مبنی ہے، فوجی کارروائی پر نہیں۔ اس تناظر میں امریکا اور ڈنمارک کے حکام کے درمیان آئندہ ملاقات متوقع ہے۔
اسی دوران اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے یوکرین جنگ کے حوالے سے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ روس سے براہِ راست بات چیت شروع کرے۔ روم میں سالانہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ یورپ کو صرف ایک فریق سے بات کرنے کے بجائے مذاکرات میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی تیاری، شہریوں کو فی کس ایک لاکھ ڈالر کی پیشکش پر غور
میلونی نے یوکرین کے لیے یورپی یونین کے خصوصی نمائندے کی تقرری کی تجویز بھی دی، تاکہ بات چیت منظم اور مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔
یورپی یونین اس معاملے پر اندرونی اختلافات کا شکار ہے، خصوصاً بالٹک ممالک روس سے رابطے کے سخت مخالف ہیں، جبکہ امریکا گزشتہ ایک سال سے ماسکو کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کر رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی امن منصوبہ یوکرین کی بڑی حد تک منظوری حاصل کر چکا ہے، تاہم روس نے تاحال باضابطہ ردِعمل نہیں دیا۔ روسی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی ذرائع سے مقاصد حاصل نہ ہوئے تو فوجی راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی امریکا ڈنمارک روس صدر ٹرمپ گرین لینڈ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اٹلی امریکا گرین لینڈ گرین لینڈ پر یورپی یونین کے لیے یہ بھی
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔