ایران بحران: مظاہرین کے قتل پر امریکا مداخلت کرسکتا ہے، ٹرمپ کی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہے اور امریکا ایران میں جاری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کی تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے، تاہم اس مداخلت میں زمینی فوج اتارنا شامل نہیں ہوگا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے روسی صدر پیوٹن کو ’اغوا‘ کرنے کے سوال پر کیا جواب دیا؟
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ برا سلوک کیا اور اب عوامی ردِعمل کی صورت میں اس کی قیمت چکائی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ایرانی شہروں میں عوام نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو چند ہفتے قبل ناقابلِ تصور تھا۔
دوسری جانب ایران نے اقوامِ متحدہ میں امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پُرامن احتجاج کو پُرتشدد اور تخریبی سرگرمیوں میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کرکے عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دسمبر کے آخر سے شروع ہونے والے مظاہرے معاشی بدحالی، کرنسی کی قدر میں کمی اور مغربی پابندیوں کے باعث شدت اختیار کر گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ نے انسداد بدعنوانی کے لیے نیشنل اینٹی فراڈ ڈویژن قائم کردیا
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایسے اقدامات کرے گا جو ایران کو وہاں ضرب لگائیں گے جہاں سب سے زیادہ اثر ہو، اور اس تمام صورتحال کو دنیا بہت قریب سے دیکھ رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران بحران.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران بحران
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔