ٹرمپ نے روسی صدر پیوٹن کو ’اغوا‘ کرنے کے سوال پر کیا جواب دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اغوا کرنے یا پکڑنے کا کوئی حکم نہیں دیں گے، کیونکہ ان کے بقول ایسی کارروائی ضروری نہیں اور ان کا پیوٹن کے ساتھ تعلق اچھا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: گرین لینڈ پر کنٹرول کے لیے سخت مؤقف، صدر ٹرمپ نے طاقت کے استعمال کا اشارہ دے دیا
امریکی میڈیا کے مطابق صحافیوں نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی خواہش پر عمل کرتے ہوئے پیوٹن کو گرفتار کرنے کا حکم دیں گے، جیسا کہ زیلنسکی نے وینزویلا میں صدر نکولس مادورو کے اغوا کے بعد تبصرہ کیا تھا۔
Reporter: Would you ever order a mission to capture Vladimir Putin?
Trump: Well, I don’t think that’s going to be necessary.
— Clash Report (@clashreport) January 9, 2026
ٹرمپ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ضروری ہوگا۔ میں نے ہمیشہ ان کے ساتھ اچھا تعلق رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ روس یوکرین جنگ میں امن کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں، لیکن وہ توقع کے مطابق کامیاب نہیں ہو سکیں۔
مزید پڑھیں: وینزویلا پر دوسرا حملہ منسوخ کردیا، تیل میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
یہ جواب عالمی سطح پر امریکی خارجہ پالیسی اور روس امریکا تعلقات پر جاری بحث کے دوران آیا ہے، خاص طور پر وینزویلا میں امریکی کارروائی کے بعد بین الاقوامی ردِعمل میں اضافہ ہوا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اغوا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اغوا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔