وینزویلا پر دوسرا حملہ منسوخ کردیا، تیل میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرینگے، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کی جانب سے بڑی تعداد میں سیاسی قیدیوں کی رہائی ایک نہایت اہم اور دانشمندانہ قدم ہے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ وینزویلا امن کی راہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اس مثبت پیش رفت کے بعد امریکا اور وینزویلا کے درمیان تعاون میں نمایاں بہتری آئی ہے، خصوصاً تیل اور گیس کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی ازسرِنو تعمیر کے حوالے سے دونوں ممالک مل کر کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں، صدر ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اس تعاون کے نتیجے میں وینزویلا کے تیل و گیس کے انفراسٹرکچر کو پہلے سے کہیں زیادہ جدید، بہتر اور بڑے پیمانے پر بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسی وجہ سے وینزویلا کے خلاف متوقع دوسری لہر کے حملے کو منسوخ کر دیا گیا ہے، کیونکہ اب اس کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔
تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ حفاظتی اور سیکیورٹی مقاصد کے پیش نظر تمام بحری جہاز اپنی موجودہ پوزیشنز پر برقرار رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا بین الاقوامی قانون ماننے سے انکار، اقوام متحدہ نے ’سامراجی دور‘ کی واپسی کا خدشہ ظاہر کر دیا
صدر ٹرمپ کے مطابق اس نئے تعاون کے تحت عالمی سطح کی بڑی تیل کمپنیوں کی جانب سے کم از کم 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج وائٹ ہاؤس میں ان بڑی آئل کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تیل ڈونلڈ ٹرمپ سرمایہ کاری وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تیل ڈونلڈ ٹرمپ سرمایہ کاری وینزویلا انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔