اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی، حکومت نے ماحولیاتی بحالی کے لیے وضاحت دے دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
اسلام آباد میں حالیہ درختوں کی کٹائی پر عوامی احتجاج کے بعد حکومت نے وضاحت پیش کی ہے کہ یہ اقدام جنگلات کی کٹائی نہیں بلکہ ماحولیاتی بحالی اور صحت کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر سوشل میڈیا کی غلط مہم، سی ڈی اے نے مؤقف واضح کر دیا
وزیرِ موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں تقریباً 29 ہزار پیپر مل بیری کے درخت ہٹائے گئے، جو الرجی اور دمے کا باعث بنتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائی سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق کی گئی اور اس کا مقصد ماحول کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر کٹے ہوئے درخت کے بدلے 3 نئے پودے لگائے جا رہے ہیں، جو مقامی اقسام کے ہیں، تاکہ شہر کا ماحولیاتی توازن برقرار رہے۔
سی ڈی اے کے مطابق شکرپڑیاں، H-8 اور چک شہزاد میں جو درخت کاٹے گئے، ان میں 90 فیصد سے زائد پیپر مل بیری کے تھے، تاہم شہریوں نے شکایت کی کہ پرانے اور صحت مند درخت بھی متاثر ہوئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ صحت کی وزارت نے بھی پیپر مل بیری کے درختوں کو اسلام آباد میں الرجی کی بڑی وجہ قرار دیا ہے، اور کٹے گئے درختوں کی جگہ پھلدار اور مقامی چیڑ کے درخت لگانے کا منصوبہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟
آن لائن تنقید کے بعد سی ڈی اے نے جنوری میں ہی شجرکاری مہم شروع کر دی، جس میں سردیوں کے دوران پودوں کی بقا پر سوالات اٹھے۔ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ چیڑ جیسے درخت سردیوں میں بھی لگائے جا سکتے ہیں اور مہم کے تحت 30 ہزار پودے لگانے کا ہدف ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ سی ڈی اے، ای پی اے اور اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ کے درمیان بہتر رابطے سے ماحولیاتی اہداف حاصل کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد درخت درختوں کی کٹائی مصدق ملک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد درخت درختوں کی کٹائی مصدق ملک درختوں کی کٹائی اسلام آباد میں سی ڈی اے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.