اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر تحقیقاتی صحافی انصار عباسی نے دعویٰ کیا ہے کہ  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے متنازع عدت کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کیلئے متعلقہ حکومتی حکام سے مدد طلب کی تھی، یہ ایک سرکاری مقدمہ تھا اور پی ٹی آئی نے سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کی بریت کیلئے حکومت سے رابطہ کیا تھا۔

باخبر ذرائع کے حوالے سے انہوں نے روزنامہ جنگ کے لیے لکھا کہ عدت کیس میں بشریٰ بی بی کے علاوہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، بیرسٹر سیف اور سینیٹر مشعال یوسف زئی دونوں فریقین کے درمیان پسِ پردہ ہونے والے رابطوں سے آگاہ ہیں۔ بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تبصرے سے انکار کر دیا۔ مشعال یوسف زئی نے بھی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدت کیس ’’انتہائی ناپسندیدہ ذوق‘‘ کا حامل تھا اور اس قدر کمزور تھا کہ طاقتور حلقوں کے اندر بھی اس پر اختلاف پایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتنا سطحی مقدمہ تھا کہ میں اس پر بات بھی نہیں کرنا چاہتی۔

قومی بچت کی مختلف سکیموں پر منافع کی شرح میں ردوبدل، اطلاق 9جنوری سے کر دیاگیا

 پی ٹی آئی کی سینیٹر مشعال یوسف زئی بشریٰ بی بی کی ترجمان بھی رہ چکی ہیں اور سابق وزیراعظم عمران خان کے قریب سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے دی نیوز کو یہ بھی بتایا کہ بشریٰ بی بی اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان یا پی ٹی آئی کے درمیان محاذ آرائی کی مخالف ہیں۔ موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے مشعال یوسف زئی نے کہا کہ ایک بیانیہ جان بوجھ کر تشکیل دیا گیا جس میں بشریٰ بی بی کو محاذ آرائی کی وجہ بنا کر پیش کیا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ بی بی سمجھتی ہیں کہ تمام تنازعات حتیٰ کہ جنگیں بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی طے ہوتی ہیں۔

بڑے سرکاری اداروں کا خسارہ 300 فیصد بڑھ گیا

 مشعال یوسف زئی کے مطابق، بشریٰ بی بی کی رائے ہے کہ عمران خان اور دوسری جانب کے اردگرد موجود بعض افراد کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان تعلقات خراب رہیں۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی سخت گیر موقف کی حامل نہیں، وہ مفاہمت اور مذاکرات کی مضبوط حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتیں جو ان کے کردار یا عمران خان پر اُن کے مبینہ اثر و رسوخ کے حوالے سے پھیلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی عمران خان سے بات کرنا چاہتا ہے، وہ اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کر سکتا ہے۔

نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مشعال یوسف زئی پی ٹی ا ئی بی بی کی عدت کیس کہ بشری

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان