عدت کیس، عمران اور بشریٰ بی بی کی بریت کیلئے پارٹی نے ’’حکام‘‘ سے مدد مانگی تھی، انصار عباسی کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر تحقیقاتی صحافی انصار عباسی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے متنازع عدت کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کیلئے متعلقہ حکومتی حکام سے مدد طلب کی تھی، یہ ایک سرکاری مقدمہ تھا اور پی ٹی آئی نے سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کی بریت کیلئے حکومت سے رابطہ کیا تھا۔
باخبر ذرائع کے حوالے سے انہوں نے روزنامہ جنگ کے لیے لکھا کہ عدت کیس میں بشریٰ بی بی کے علاوہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، بیرسٹر سیف اور سینیٹر مشعال یوسف زئی دونوں فریقین کے درمیان پسِ پردہ ہونے والے رابطوں سے آگاہ ہیں۔ بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تبصرے سے انکار کر دیا۔ مشعال یوسف زئی نے بھی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدت کیس ’’انتہائی ناپسندیدہ ذوق‘‘ کا حامل تھا اور اس قدر کمزور تھا کہ طاقتور حلقوں کے اندر بھی اس پر اختلاف پایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتنا سطحی مقدمہ تھا کہ میں اس پر بات بھی نہیں کرنا چاہتی۔
قومی بچت کی مختلف سکیموں پر منافع کی شرح میں ردوبدل، اطلاق 9جنوری سے کر دیاگیا
پی ٹی آئی کی سینیٹر مشعال یوسف زئی بشریٰ بی بی کی ترجمان بھی رہ چکی ہیں اور سابق وزیراعظم عمران خان کے قریب سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے دی نیوز کو یہ بھی بتایا کہ بشریٰ بی بی اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان یا پی ٹی آئی کے درمیان محاذ آرائی کی مخالف ہیں۔ موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے مشعال یوسف زئی نے کہا کہ ایک بیانیہ جان بوجھ کر تشکیل دیا گیا جس میں بشریٰ بی بی کو محاذ آرائی کی وجہ بنا کر پیش کیا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ بی بی سمجھتی ہیں کہ تمام تنازعات حتیٰ کہ جنگیں بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی طے ہوتی ہیں۔
بڑے سرکاری اداروں کا خسارہ 300 فیصد بڑھ گیا
مشعال یوسف زئی کے مطابق، بشریٰ بی بی کی رائے ہے کہ عمران خان اور دوسری جانب کے اردگرد موجود بعض افراد کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان تعلقات خراب رہیں۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی سخت گیر موقف کی حامل نہیں، وہ مفاہمت اور مذاکرات کی مضبوط حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتیں جو ان کے کردار یا عمران خان پر اُن کے مبینہ اثر و رسوخ کے حوالے سے پھیلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی عمران خان سے بات کرنا چاہتا ہے، وہ اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کر سکتا ہے۔
نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مشعال یوسف زئی پی ٹی ا ئی بی بی کی عدت کیس کہ بشری
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔