ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کا نیا چیئرمین تعینات کرنے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
وفاقی حکومت نے ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کا نیا چیئرمین مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے وزارت خزانہ نے ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کو چیئرمین ایس ای سی پی تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پہلے حکومت نے ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کو ایک علیحدہ نوٹیفیکیشن کے ذریعے ایس ای سی پی میں کمشنرز مقرر کیا ہے ڈاکٹر کبیر احمد سدھو اس وقت کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
کمپٹیشن کمیشن میں انہوں نے ادارے میں نمایاں اصلاحات اور جامع انفورسمنٹ کی صلاحیت کو بحال کیاڈاکٹر سدھو قانون میں بیچلر ڈگری، بینکنگ، انشورنس اور انٹرنیشنل بزنس لا میں ایل ایل ایم، اور یونیورسٹی آف مانچسٹر سے پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔
انہوں نے مانچسٹر لا سوسائٹی سے سول لِٹیگیشن میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ بھی حاصل کیا ہے، جبکہ لندن انسٹیٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس سے مورگیج اور فنانشل ایڈوائس سے متعلق سرٹیفکیشنز بھی حاصل کیں۔
ان کی ڈاکٹریٹ تحقیق کا موضوع برطانیہ، امریکا اور شریعہ کمپلائنٹ اسٹاک ایکسچینجز میں سرمایہ کاروں کے تحفظ اور اسٹاک ایکسچینجز کے ضابطہ جاتی نظام پر مرکوز تھادو دہائیوں سے زائد پیشہ ورانہ تجربے کے حامل ڈاکٹر سدھو نے برطانیہ میں انشورنس کمپنیوں، قانون فرموں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دیں، جبکہ پاکستان میں مختلف سرکاری وزارتوں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔
کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان میں بطور چئیرمین خدمات انجام دینے سے قبل وہ وزارتِ قانون میں سینئر لیگل کنسلٹنٹ کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔
انہوں نے پرائیویٹائزیشن کمیشن میں بھی سینئر لیگل کنسلٹنٹ کے طور پر خدمات سرانجام دیں ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں معروف ماہرینِ قانون کے ساتھ ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر بھی وابستہ رہے۔
ڈاکٹر سدھو نے اگست 2023 میں کمپٹیشن کمیشن کے چئیرمین تعینات ہوئے تو ادارے کو طویل عرصے سے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے بڑے بیک لاگ کاکمپتیشن کمیشن میں دو برس کے اندر انہوں نے زیر التوا مقدمات کے بیک لاگ میں 70 فیصد سے زائد کمی کی، جہاں عدالتوں میں فعال پیروی کے ذریعے 567 میں سے 434 مقدمات کے فیصلے ہوئے۔
ڈاکٹر سدھو کے دور میں کمپٹیشن کمیشن نے تقریباً 1.
پولٹری، چینی، خوردنی تیل، ٹیلی کام اور طبی خدمات کے شعبوں میں کارٹلز کے خلاف بڑی تحقیقات شروع کی گئیں ور جرمانے عائد کیے گئے کمیشن کے متعدد فیصلوں کو سپریم کورٹ اور کمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل نے برقرار رکھا، اور کمیشن کے اقدامات کی عدالتی توثیق کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کو کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر سدھو کے طور پر انہوں نے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔