پاک بحریہ کی شمالی بحیرۂ عرب میں جامع بحری مشق، ایل وائے 80 این ایئر ڈیفنس میزائل کا ہدف کو نشانہ بنانے کا کامیاب تجربہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاک بحریہ نے شمالی بحیرۂ عرب میں جامع بحری مشق کا انعقاد کیا جس میں ایل وائے 80 این ایئر ڈیفنس میزائل کا ہدف کو نشانہ بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ نے مشق کے دوران جدید اور بغیر پائلٹ نظاموں کے ذریعے جنگی تیاریوں کا شاندار مظاہرہ کیا، ایل وائے 80 این میزائل نے طویل فاصلے پر فضائی ہدف کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔
مشق میں لوئٹرنگ میونیشن کے ذریعے سطحی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، بغیر پائلٹ سطحی جہاز کے کامیاب اوپن سی ٹرائلز مکمل کیے گئے، یو ایس وی نے تیز رفتاری، اعلیٰ کنٹرول اور موسمی سختیوں میں کارکردگی ثابت کردی۔
بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں بس گہری کھائی میں جاگری، 8 افراد ہلاک، متعدد زخمی
کمانڈر پاکستان فلیٹ نے بحری مشق کا مشاہدہ کیا، امیر البحر ایڈمرل نوید اشرف نے افسران و جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ پاک بحریہ ہر صورت ملکی سمندری سرحدوں کے دفاع کیلئے پرعزم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاک بحریہ
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔