پاک بحریہ کا زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
راولپنڈی (نیوز ڈیسک)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نیوی نے کھلے سمندر میں ایک جامع بحری مشق کا انعقاد کیا، جس میں روایتی اور جدید بغیر پائلٹ فضائی و بحری دفاعی نظاموں کی عملی صلاحیتوں کا کامیاب مظاہرہ کیا گیا۔
مشق کے دوران ایل وائی 80 این سرفیس ٹو ایئر میزائل کو ورٹیکل لانچنگ سسٹم کے ذریعے طویل فاصلے پر کامیابی سے فائر کیا گیا۔ میزائل نے مقررہ فضائی ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، جس سے پاکستان نیوی کے جدید اور مضبوط فضائی دفاعی نظام کی مؤثر صلاحیت کی توثیق ہوئی۔
اس موقع پر لوئٹرنگ میونیشن کے ذریعے سطحی اہداف کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ اس جدید ہتھیار نے درست اور مؤثر اسٹرائیک صلاحیت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے بحری جنگ میں اس کی افادیت ثابت کی۔
مشق کے ایک اور اہم مرحلے میں کھلے سمندر میں بغیر پائلٹ سطحی بحری جہاز کے کامیاب آزمائشی تجربات کیے گئے۔ ان تجربات نے خودکار بحری ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا۔ بغیر پائلٹ بحری جہاز نے تیز رفتاری، مضبوط ساخت اور مختلف مشنز انجام دینے کی بھرپور صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا۔
اس جدید پلیٹ فارم نے انتہائی پھرتی، درست نیویگیشن اور خراب موسمی حالات میں مؤثر کارکردگی دکھائی، جو کم خطرے اور زیادہ اثر رکھنے والی جدید بحری صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔
مشق کا مشاہدہ کمانڈر پاکستان فلیٹ نے کیا، جبکہ اس دوران پاکستان نیوی کی جدید نظاموں کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی مکمل صلاحیت نمایاں رہی۔
چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے مشق میں حصہ لینے والے افسران اور جوانوں کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور پاکستان نیوی کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نیوی ہر صورت ملکی سمندری دفاع اور قومی بحری مفادات کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار اور پرعزم ہے۔
*پاکستان کا زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ، *ورٹیکل لانچنگ سسٹم سے ایل وائی 80 میزائل نے فضائی ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کیا، *پاک بحریہ نے شمالی بحیرۂ عرب میں جامع مشق کے ذریعے اپنی عملی تیاری اور جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، آئی ایس پی آر* pic.
— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) January 10, 2026
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان نیوی
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس