کراچی میں آن لائن منشیات نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی، 3 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
ایس آئی یو/ سی آئی اے اور ٹاسک فورس نے منشیات فروشوں کے خلاف مشترکہ اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے کراچی میں آن لائن منشیات کا نیٹ ورک چلانے والے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن کے قبضے سے لاکھوں روپے مالیت کی مہلک منشیات اور ایک گاڑی برآمد کر لی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی پولیس کی کارروائیاں، بھاری مقدار میں منشیات برآمد، 14 ملزمان گرفتار
ایس ایس پی ایس آئی یو کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان کو ڈیفنس فیز فائیو کے علاقے خیابانِ بحریہ سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتار افراد کی شناخت گل محمد، یاسر اور وسیم کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے انتہائی مہلک ویڈ کی 300 گرام مقدار برآمد کی، جس کی مالیت 25 لاکھ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
ایس ایس پی ایس آئی یو عمران خان کے مطابق ملزمان شہر کے پوش علاقوں میں آن لائن منشیات کی ڈیلیوری میں ملوث تھے اور سوشل ایپلیکیشنز کے ذریعے منشیات کے آرڈر وصول کیے جاتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی منشیات فروخت کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی پولیس کی کارروائی، افغان مہاجرین کے خالی کیے گئے گھر مسمار کردیے
کارروائی کے دوران ملزمان کے زیر استعمال آلٹو کار بھی تحویل میں لے لی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
ایس ایس پی ایس آئی یو/ سی آئی اے ڈاکٹر محمد عمران خان نے کہا کہ منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچانے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رکھا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آن لائن منشیات ایس آئی یو کراچی پولیس منشیات فروش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ن لائن منشیات ایس آئی یو کراچی پولیس منشیات فروش
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔