امریکا میں بھی 70 لاکھ ڈالر کی کوکین اسمگلنگ پر 2 بھارتی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) مودی کے دور میں دنیا بھر میں بھارتی اپنے ہی ملک کے لیے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں جنہیں سخت قانونی چارہ جوئی کا بھی سامنا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ امریکی ریاست انڈیانا میں پیش آیا، جہاں ٹرک کے خفیہ خانوں میں چھپائی گئی منشیات پکڑی گئی۔ریاست انڈیانا کی پولیس نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر سرچ آپریشن کیا جس میں منشیات سونگھنے والے کتوں کی بھی مدد لی گئی۔ٹرک سے 309 پونڈ (تقریباً 140 کلوگرام) کوکین ملی جس کی مالیت تقریباً 70 لاکھ ڈالر بتائی جا رہی ہے۔پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ اتنی بڑی مقدار میں کوکین ملی کہ وہ ایک لاکھ 13 ہزار سے زائد امریکیوں کی جان لے سکتی تھیں۔ منشیات اسمگلنگ کے الزام میں ٹرک ڈرائیورز کو حراست میں لے لیا جن کا تعلق بھارت سے بتایا جا رہا ہے۔بھارت نژاد ملزمان کو تھانے منتقل کرکے سنگین جرائم کی دفعات کے تحت تفتیش کا آغاز کردیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔