سندھ میں 13,000 سے زائد منصوبے شروع کیے گئے، 9,193 مکمل ہو چکے ہیں: شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے صوبے میں جاری ترقیاتی عمل کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر میں اب تک نو ہزار سے زائد ترقیاتی منصوبے پایۂ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں، جو حکومت کی پالیسیوں اور عملدرآمد کی رفتار کا واضح ثبوت ہیں۔
اپنے بیان میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ صوبے میں مجموعی طور پر تیرہ ہزار سے زائد منصوبوں کا آغاز کیا گیا، جن میں صحت، تعلیم، زراعت، آبپاشی، سڑکوں اور سماجی شعبے کے 9 ہزار 193 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 367 ارب روپے کی غیر ملکی امداد اور 76 ارب روپے وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، جس کا مقصد صوبے میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔
سینئر وزیر نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کا ترقیاتی وژن محض منصوبوں کے اعلانات تک محدود نہیں بلکہ بروقت تکمیل اور اعلیٰ معیار کو یقینی بنانا اس پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ اسی تناظر میں تمام محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ نئے منصوبوں کی منظوری اسی وقت دی جائے جب جاری اسکیمیں مکمل ہو جائیں، کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے ساتھ ساتھ معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی میں ہر ترقیاتی منصوبہ شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری اور شہر کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، کراچی نیبرہڈ امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت سڑکوں، پارکوں، نکاسیٔ آب، سیوریج اور اسٹریٹ لائٹنگ کے متعدد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جن کے مثبت اثرات شہری زندگی میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایات پر شہری ماسٹر پلانز پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے تاکہ غیر منصوبہ بند تعمیرات اور ترقیاتی بے قاعدگیوں کا سدباب کیا جا سکے۔
سندھ میونسپل سروسز ڈلیوری پروگرام کے تحت جیکب آباد سمیت دیگر شہروں میں پانی کی فراہمی، کچرے اور ویسٹ واٹر مینجمنٹ کے نظام میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔
سینئر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ میں جاری ہر ترقیاتی منصوبہ عوامی خدمات کی بہتری، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اصولوں کو سامنے رکھ کر تشکیل دیا گیا ہے، اور حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ منصوبے وقت پر مکمل ہوں، معیار برقرار رہے اور ان کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
وقاص عظیم: وفاقی بجٹ 2026-27 میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کیلئے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت نئے فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
منصوبے کے تحت 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
بجٹ تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔