معرکہ حق میں لگنے والا گہرا زخم، امریکا میں لاکھوں ڈالر کی لابنگ کے باوجود بھارت کو سفارتی محاذ پر شکست
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
علاقائی تنازعات اور معرکہ حق میں شکست کے بعد بھارت نے سفارتی کمزوریوں کے تدارک کے لیے لابنگ فرموں پر انحصار شروع کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا نے بھارت کی قیادت میں قائم انٹرنیشنل سولر الائنس سے علیحدگی اختیار کرلی، مودی سرکار کو بڑا دھچکا
امریکی تحقیقاتی ادارے اوپن سیکرٹس اور بھارتی جریدے دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے امریکا میں لاکھوں ڈالرز کی لابنگ کے ذریعے اپنی مسخ شدہ ساکھ بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔
اوپن سیکرٹس کے مطابق بھارتی حکومت نے 2025 میں متعدد لابیسٹ ہائر کیے تاکہ بین الاقوامی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے امریکی لابنگ فرم بی جی آر گروپ کو 4 لاکھ 50 ہزار ڈالرز فراہم کیے تاکہ سفارتی تعلقات اور ساکھ کی بحالی کی جا سکے۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت نے آپریشن سندور کے بعد امریکا میں لابنگ کے ذریعے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ سے رابطے شروع کیے اور گمراہ کن پروپیگنڈا کی ترویج کے لیے بھی کوششیں کیں۔
مزید پڑھیں: مودی کی کس غلطی کی وجہ سے بھارت امریکا معاہدہ کھٹائی میں پڑا، امریکی وزیر تجارت نے بتادیا
مزید بتایا گیا کہ بھارتی وفد نے امریکی انتظامیہ سے ملاقاتوں میں ایس ایچ ڈبلیو لابنگ فرم کی خدمات حاصل کیں، جس کے لیے بھارت نے 1.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا میں لابنگ بھارت سفارتی محاذ شکست کا سامنا وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا میں لابنگ بھارت سفارتی محاذ شکست کا سامنا وی نیوز امریکا میں بھارت نے کے لیے
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔