سینیٹ اجلاس میں انکشاف: عوام سے 14 ہزار میگاواٹ غیرفعال بجلی کے 2.2 کھرب روپے وصول کیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں اہم انکشاف ہوا ہے کہ عوام سے 14 ہزار میگاواٹ غیرفعال بجلی کے لیے 2.2 کھرب روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس میں کراچی میں لوڈشیڈنگ سے متعلق نیپرا کی زیرالتوا دو سالہ سروے رپورٹ بھی دو دن میں طلب کر لی گئی۔
پی آئی ڈی کراچی کے مطابق اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں ہوا جس کی صدارت کمیٹی چیئرپرسن سینیٹر رانا محمود الحسن نے کی۔ اجلاس میں سینیٹرز نے سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی، نیپرا کے دیگر امور اور بجلی کی صارفین سے وصولیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے نیپرا حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صارفین سے اس بجلی کے پیسے لیے جا رہے ہیں جو پیدا ہی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وصولی صرف اس لیے ہو رہی ہے کہ سردیوں میں بجلی کی کھپت کم ہو جاتی ہے۔
سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ بجلی سستی ہونے کے اعلانات کے باوجود عوام پر بوجھ برقرار ہے، اور نیپرا کے پاس ہزار میگاواٹ کے نئے کنکشنز کی درخواستیں پڑی ہیں لیکن ان پر پیش رفت معلوم نہیں۔ انہوں نے آئی پی پیز کے فرانزک آڈٹ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ بجلی کی پیداوار اور کیپیسیٹی چارجز میں کتنا پیسہ لیا گیا۔
چیئرپرسن کمیٹی نے بھی سفارش کی کہ آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور نئے پاور پلانٹس، اراضی کی مالیت، ایندھن کی کھپت اور مشینری کی کارکردگی کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
نیپرا حکام نے وضاحت کی کہ ٹیرف میں دو حصے ہوتے ہیں: کیپیسیٹی چارجز اور انرجی چارجز۔ کیپیسیٹی چارجز بجلی کے استعمال سے مشروط نہیں، اور 4 کروڑ صارفین میں صرف 20 لاکھ تھری فیز کے ہیں، اس لیے یہ چارجز کم نہیں کیے جا سکتے۔
کراچی کے تاجر زبیر موتی والا نے بتایا کہ فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج اور گردشی قرضے کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے بجلی کے بل زیادہ رہتے ہیں، اور کے-الیکٹرک کے خلاف نیپرا کے آرڈرز عدالت میں روک دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سب سے زیادہ حکم امتناعی کے-الیکٹرک کے پاس ہے، جس سے انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 42 ہزار میگاواٹ بجلی کے سسٹم میں سے 28 ہزار فعال ہیں، اور 14 ہزار میگاواٹ غیرفعال بجلی کے لیے بھی صارفین سے پیسے لیے جا رہے ہیں۔
سینیٹر عبدالقادر اور شارق جمال نے مطالبہ کیا کہ عوام سے غیر فعال بجلی کے لیے وصولی کی تحقیقات کی جائیں، جرمانے عوام پر نہ ڈالے جائیں، اور نیپرا عوامی عدالتوں کے ذریعے شفاف عمل یقینی بنائے۔
چیئرپرسن کمیٹی نے ہدایت دی کہ کراچی میں دو سال سے زیرالتوا لوڈشیڈنگ سروے رپورٹ دو دن میں کمیٹی اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو فراہم کی جائے۔
یہ اجلاس بجلی کی قیمتوں، کے-الیکٹرک کی کارکردگی اور عوامی تحفظ کے مسائل پر روشنی ڈالنے والا ایک اہم موقع ثابت ہوا، جس میں کمیٹی نے آئندہ کارروائی اور شفافیت کے لیے سخت اقدامات کرنے کا عندیہ دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہزار میگاواٹ اجلاس میں انہوں نے بجلی کے بجلی کی کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔
عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔