بجلی سستی کرنے کی کوشش، پاکستان کا 36 ارب ڈالر قرض ری فنانس کرنے کا پلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان نے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ورلڈ بینک سے رجوع کر لیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے کثیر جہتی اور دو طرفہ قرض دہندگان کے 36 ارب ڈالر مالیت کے توانائی کے قرضوں کی ری فنانسنگ میں ممکنہ کردار کے لیے عالمی مالیاتی ادارے سے رابطہ کیا ہے۔ یہ وہ قرضے ہیں جو ماضی میں بجلی پیدا کرنے کے مختلف منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے تھے اور جن کی لاگت براہِ راست بجلی کے نرخوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ابتدائی تجویز اس مقصد کے تحت تیار کی گئی ہے کہ مہنگے غیر ملکی قرضوں کو نسبتاً کم لاگت والے کثیر جہتی قرضوں سے تبدیل کیا جا سکے تاکہ صارفین پر بجلی کے بلوں کا بوجھ کم ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قرض کی اصل رقم اور اس پر ادا کیا جانے والا سود بجلی کی قیمت کا حصہ بنتا ہے، جسے بالآخر عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے اس معاملے پر بین الوزارتی سطح پر مشاورت کے ساتھ ساتھ ورلڈ بینک حکام سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ ورلڈ بینک کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ایک حالیہ ملاقات میں پاکستان کے وزیر توانائی نے 36 ارب ڈالر کے توانائی قرضوں کا ذکر کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ آیا ترقیاتی شراکت دار مل کر اس بوجھ کو کم کرنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بڑے حجم کی فنانسنگ کسی ایک ادارے کے لیے ممکن نہیں، اسی لیے مختلف عالمی اداروں کو شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایک اجلاس کے دوران مختلف وزارتوں کے مؤقف میں اختلاف بھی سامنے آیا، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پاور ڈویژن، وزارتِ اقتصادی امور کے ساتھ مشاورت کے بعد اس تجویز کو حتمی شکل دے گا۔
ابتدائی منصوبے کے مطابق حکومت قرض کی واپسی کے لیے 15 سال کی مدت اور تقریباً 4 سال کے گریس پیریڈ کی خواہاں ہے۔ اس اقدام کا مقصد بجلی کی قیمتوں کو کم کر کے 8 سے 9 امریکی سینٹ فی یونٹ تک لانا ہے، جو پاکستانی روپے میں تقریباً 25 روپے فی یونٹ بنتا ہے۔ حکام کے مطابق اگر یہ ہدف حاصل ہو جاتا ہے تو یہ عوام کے لیے ایک بڑی ریلیف ثابت ہو سکتا ہے۔
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ عالمی تجربات شیئر کر سکتا ہے تاکہ قرضوں کی تشکیلِ نو کے لیے مؤثر فنانسنگ میکانزم تیار کیا جا سکے، تاہم مالی تعاون پر تاحال کوئی حتمی بات چیت نہیں ہوئی۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی قرض دہندگان متحد ہو جائیں تو پاکستان کو سالانہ ایک سے دو ارب ڈالر تک کا ریلیف مل سکتا ہے، جو توانائی کے شعبے کے لیے نہایت اہم ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ورلڈ بینک کے مطابق ارب ڈالر کے لیے
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔