data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پاکستان نے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ورلڈ بینک سے رجوع کر لیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے کثیر جہتی اور دو طرفہ قرض دہندگان کے 36 ارب ڈالر مالیت کے توانائی کے قرضوں کی ری فنانسنگ میں ممکنہ کردار کے لیے عالمی مالیاتی ادارے سے رابطہ کیا ہے۔ یہ وہ قرضے ہیں جو ماضی میں بجلی پیدا کرنے کے مختلف منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے تھے اور جن کی لاگت براہِ راست بجلی کے نرخوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق ابتدائی تجویز اس مقصد کے تحت تیار کی گئی ہے کہ مہنگے غیر ملکی قرضوں کو نسبتاً کم لاگت والے کثیر جہتی قرضوں سے تبدیل کیا جا سکے تاکہ صارفین پر بجلی کے بلوں کا بوجھ کم ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قرض کی اصل رقم اور اس پر ادا کیا جانے والا سود بجلی کی قیمت کا حصہ بنتا ہے، جسے بالآخر عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے اس معاملے پر بین الوزارتی سطح پر مشاورت کے ساتھ ساتھ ورلڈ بینک حکام سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ ورلڈ بینک کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ایک حالیہ ملاقات میں پاکستان کے وزیر توانائی نے 36 ارب ڈالر کے توانائی قرضوں کا ذکر کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ آیا ترقیاتی شراکت دار مل کر اس بوجھ کو کم کرنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بڑے حجم کی فنانسنگ کسی ایک ادارے کے لیے ممکن نہیں، اسی لیے مختلف عالمی اداروں کو شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایک اجلاس کے دوران مختلف وزارتوں کے مؤقف میں اختلاف بھی سامنے آیا، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پاور ڈویژن، وزارتِ اقتصادی امور کے ساتھ مشاورت کے بعد اس تجویز کو حتمی شکل دے گا۔

ابتدائی منصوبے کے مطابق حکومت قرض کی واپسی کے لیے 15 سال کی مدت اور تقریباً 4 سال کے گریس پیریڈ کی خواہاں ہے۔ اس اقدام کا مقصد بجلی کی قیمتوں کو کم کر کے 8 سے 9 امریکی سینٹ فی یونٹ تک لانا ہے، جو پاکستانی روپے میں تقریباً 25 روپے فی یونٹ بنتا ہے۔ حکام کے مطابق اگر یہ ہدف حاصل ہو جاتا ہے تو یہ عوام کے لیے ایک بڑی ریلیف ثابت ہو سکتا ہے۔

ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ عالمی تجربات شیئر کر سکتا ہے تاکہ قرضوں کی تشکیلِ نو کے لیے مؤثر فنانسنگ میکانزم تیار کیا جا سکے، تاہم مالی تعاون پر تاحال کوئی حتمی بات چیت نہیں ہوئی۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی قرض دہندگان متحد ہو جائیں تو پاکستان کو سالانہ ایک سے دو ارب ڈالر تک کا ریلیف مل سکتا ہے، جو توانائی کے شعبے کے لیے نہایت اہم ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ورلڈ بینک کے مطابق ارب ڈالر کے لیے

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران