سرینگر میں میڈیا نمائندوں کیساتھ بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے لیڈر نے کہا کہ بی جے پی کی کارروائیوں کے باعث طلباء کے مستقبل کو نقصان پہنچا ہے جبکہ پی ڈی پی ایک حساس تعلیمی معاملے پر سستی سیاست کررہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینیئر رہنما اور ترجمان اعلٰی تنویر صادق نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ شری مایا ویشنو دیو یونیورسٹی اور کے میڈیکل کالج سے متعلق جاری تنازعے پر پی ڈی پی اور بھارتیہ جنتا پارٹی ایک ہی بالی بول رہی ہیں۔ سرینگر میں میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی کارروائیوں کے باعث طلباء کے مستقبل کو نقصان پہنچا ہے جبکہ پی ڈی پی ایک حساس تعلیمی معاملے پر سستی سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ بی جے پی جیسی جماعت طلباء کے مستقبل کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

تنویر صادق نے مزید کہا کہ یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے دلی جاکر ایک میڈیکل کالج کو بند کرانے کی کوشش کی ہو، جسے انہوں نے طلباء اور ان کے والدین کے لئے نہایت نقصاں دہ قرار دیا۔ انہوں الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی بھی طلباء کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہونے کے بجائے اس معاملے پر سیاسی کر رہی ہے۔ جموں و کشمیر میں بی جے پی ایک سیاسی قوت کے طور مرحوم مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی کی پولیسیوں اور اقدامات کے باعث ابھری۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کا جائزہ لیتے عوام کو اس سیاسی تاریخ کو فراموشی نہیں کرنا چاہئیے۔

تنویر صادق نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام میڈیکل کالج کی بندش کے خلاف ہیں اور یہ صرف چند عناصر ہیں جو کہ گمراہ کن بیان یہ پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں تمام والدین اپنے بچوں کو روشن مستقل چاہتے ہیں اور کوئی بھی تعلیمی ادارے کی بندش کی حمایت نہیں کرتا۔ انہوں نے تقیسم کی بات کرنے والے بعض عناصر کے بیانات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسے بیانات سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور تعلیم اور روزگار جیسے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی بھر پور کوشش کرتے رہتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میڈیکل کالج تنویر صادق کرتے ہوئے نے کہا کہ طلباء کے انہوں نے بی جے پی پی ڈی پی پی ایک

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس