بل گیٹس نے سابقہ اہلیہ کی تنظیم کو اربوں ڈالرز خاموشی سے کیوں منتقل کیے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے اپنی سابقہ اہلیہ میلنڈا فرنچ گیٹس کی فلاحی تنظیم کو خاموشی سے تقریباً 7.88 ارب ڈالر منتقل کر دیے ہیں، جو کسی بھی طلاق سے متعلق سب سے بڑی مالی ادائیگیوں میں سے ایک تصور کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بل گیٹس کی سابقہ اہلیہ کا گیٹس فاؤنڈیشن چھوڑ کر الگ ادارہ قائم کرنے کا اعلان
ٹیکس فائلنگ کے مطابق یہ رقم 2024 میں میلنڈا کی نئی غیر منافع بخش تنظیم پیوٹل فِلانتھروپیز فاؤنڈیشن کو دی گئی، جو خواتین، خاندانوں اور سماجی ترقی سے متعلق آزادانہ فلاحی منصوبوں کے لیے کام کرتی ہے، یہ پہلی بار ہے کہ 2021 میں دونوں کے طلاق کے مالی پہلو منظر عام پر آئے ہیں۔
میلنڈا فرنچ گیٹس نے کہا تھا کہ طلاق کے معاہدے کے تحت وہ اربوں ڈالر اپنی آزادانہ فلاحی سرگرمیوں کے لیے حاصل کریں گی۔ بل گیٹس نے کیسکیڈ انویسٹمنٹ، جو ان کی نجی ہولڈنگ کمپنی ہے، کے ذریعے اپنی سابقہ اہلیہ کو اربوں ڈالر منتقل کیے۔
طویل قانونی اور مالی معاملات کے بعد دونوں نے اپنے اثاثے بھی تقسیم کیے، جس میں 170 ملین ڈالر سے زیادہ کی جائیداد، تقریباً 130 ملین ڈالر مالیت کا آرٹ کلیکشن اور مائیکروسافٹ کے اسٹاکز شامل ہیں، جس سے میلنڈا کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 25 ارب ڈالر کے اثاثے آگئے۔
یہ بھی پڑھیں: بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کا خواتین کی صحت کے لیے 2.
بل گیٹس کی جانب سے حالیہ رقم پیوٹل فِلانتھروپیز کو فراہم کی گئی 12.5 ارب ڈالر کی وعدہ کی گئی امداد کا حصہ ہے، جبکہ باقی تقریباً 4.6 ارب ڈالر پیوٹل وینچرز میں گئے، جو نجی قانونی فریم ورک کے تحت کام کرنے والی کمپنی ہے۔
میلنڈا فرنچ گیٹس نے 2022 میں پیوٹل فِلانتھروپیز کے قیام کا اعلان کیا تھا تاکہ خواتین، خاندانوں اور سماجی ترقی سے متعلق آزادانہ گرانٹس اور سرمایہ کاری کی جا سکے۔
اس سرمایہ کاری کے بعد یہ فاؤنڈیشن امریکی فلاحی شعبے میں اوپر کی سطح پر پہنچ گئی اور گزشتہ سال تقریباً 7 ارب ڈالر کے اثاثے کے ساتھ ملک کی بڑی نجی گرانٹ دینے والی تنظیموں میں شامل ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ’آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟‘، انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال کا بہترین جواب بل گیٹس نے بتادیا
یہ مالی ادائیگی بل گیٹس اور میلنڈا گیٹس کی طلاق کے بعد کی سرگرمیوں اور فلاحی کاموں کے ایک واضح اور اہم مرحلے کے طور پر دیکھی جارہی ہے، جس سے میلنڈا فرنچ گیٹس کو اپنے فلاحی منصوبوں کی توسیع کا موقع ملا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بل گیٹس طلاق فلاحی تنظیم میلنڈا فرنچ گیٹس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بل گیٹس طلاق فلاحی تنظیم میلنڈا فرنچ گیٹس میلنڈا فرنچ گیٹس سابقہ اہلیہ بل گیٹس نے ارب ڈالر گیٹس کی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔