اسلام آباد:

پاک امریکا تعلقات اس وقت تاریخ کی مضبوط ترین سطح پر ہیں، جس کے نتیجے میں ملک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری جلد متوقع ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی سفارت خانے کے منسٹر کاؤنسلر برائے پبلک ڈپلومیسی اینڈی ہیلس نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات اپنی تاریخ کی بہترین سطح پر ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان مضبوط، خوشگوار اور باہمی احترام پر مبنی روابط دونوں ممالک کے تعلقات کی مستحکم بنیاد کی عکاسی کرتے ہیں۔

اینڈی ہیلس نے انکشاف کیا کہ امریکی حکومت کے ایگزم بینک کے اشتراک سے پاکستان کے اہم معدنی منصوبے ریکوڈک میں کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز کے شعبے میں امریکی نجی کمپنیوں کی دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے جو پاک امریکا اقتصادی تعاون میں اضافے کی علامت ہے۔

امریکی سفارتکار کے مطابق سرمایہ کاری کے حتمی فیصلے نجی امریکی کمپنیاں خود کرتی ہیں، تاہم امریکی سفارت خانے میں ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے غیر معمولی دلچسپی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنیاں جہاں سرمایہ کاری کرتی ہیں وہاں مقامی باصلاحیت افرادی قوت کو ترجیح دیتی ہیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتی ہیں۔

اینڈی ہیلس نے تعلیم کو پاک امریکا تعلقات کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں فل برائٹ پروگرام کو 75 برس مکمل ہو چکے ہیں اور اب تک 9 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ امریکا کی ممتاز جامعات سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی نوجوانوں کو یو ایس ای ایف پی اور ایجوکیشن یو ایس اے کے مفت تعلیمی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِاعظم شہباز شریف کے درمیان تعلقات نہایت مضبوط اور خوشگوار ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف کے بارے میں مثبت بیانات دے چکے ہیں۔

اینڈی ہیلس کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں ایسے وقت میں یہاں امریکی سفارت خانے کے لیے کام کرنے آیا ہوں۔ بطور امریکی سفارت کار یہاں آنے کے لیے یہ سب سے اچھا موقع ہے۔ موجودہ صورت حال پاکستان اور امریکا کے درمیان مضبوط بنیادوں پر استوار تعلقات کی عکاس ہے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل امریکی سفارت سرمایہ کاری پاک امریکا اینڈی ہیلس انہوں نے نے کہا

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا