پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ریٹائرڈ ملازمین کےلئے میڈیکل سہولت جاری رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے بعد ریٹائرڈ ملازمین کو میڈیکل سہولت اسٹیٹ لائف انشورنس کے ذریعے جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی نے پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کو میڈیکل سہولیات دینے کے لیے تحریری احکامات جاری کردیے ہیں۔ جاری احکامات کے مطابق پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کو ملک بھر میں اسٹیٹ لائف انشورنس کے پینل پر اسپتالوں میں میڈیکل سہولیات دی جائیں گی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کو میڈیکل میں لیباریٹری سہولیات بھی شامل ہوں گی۔اسٹیٹ لائف انشورنس نے تمام پینل پر موجود اسپتالوں اور لیباریٹریز کو تحریری ہدایت جاری کردی ہیں۔
جاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ڈسٹرکٹ میڈیکل افسران (ڈی ایم اوز اور ہیلتھ فیسلیٹی افسران (ایچ ایف اوز) ان احکامات پر عمل درآمد کے لیے اسپتال کی انتظامیہ کے ساتھ رابطے کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریٹائرڈ ملازمین کو اسٹیٹ لائف انشورنس پی ا ئی اے
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔