شدید دھند کے باعث ملک بھر میں متعدد موٹرویز بند
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک کے مختلف حصوں میں شدید دھند کے باعث اہم موٹرویز پر ٹریفک متاثر ہو گئی ہے۔موٹروے پولیس کے مطابق موٹروے ایم 2 لاہورسے کوٹ مومن تک، ایم 3 جڑانوالہ سے فیض پور تک اور ایم 4 خانیوال سے ملتان تک دھند کی وجہ سے بند کردی گئی ہیں۔
سنٹرل ریجن کے ترجمان نے بتایا کہ موٹروے ایم 5 ملتان سے روہڑی تک بڑی گاڑیوں کے لیے بند کی گئی ہے جبکہ ایم 11 لاہور سے سمبڑیال تک بھی دھند کے باعث ٹریفک معطل ہے۔ترجمان موٹروے پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ دھند کی شدت کے پیش نظر احتیاط برتیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ دھند کی وجہ سے حد نظر کم ہونے کے باعث حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لئے موٹرویز بند کرنے کا فیصلہ عوام کی حفاظت کے لئے کیا گیا ہے۔
سندھ میں سردی کے پیش نظر سکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی
موٹروے پولیس نے اضافی گشت اور رہنمائی کے عملے تعینات کر دیئے ہیں تاکہ شہری محفوظ طریقے سے سفر کر سکیں۔دھند کی شدت کم ہونے کے بعد موٹرویزکھولنے کیلئے فوری کارروائی کی جائے گی اورڈرائیورزکواحتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ موٹرویز پر سفر سے پہلے تازہ ترین اطلاعات حاصل کریں تاکہ کسی حادثے سے بچا جا سکے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے باعث دھند کی گئی ہے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔