برطانیہ: نابالغ لڑکیوں کو آن لائن ہراساں کرنے پر بھارتی طالبعلم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
برطانوی پولیس نے ایک بھارتی طالبعلم کو گرفتار کیا ہے جو نابالغ لڑکیوں کو آن لائن ہراساں کرنے میں ملوث تھا۔
ایک اور بھارتی طالبعلم برطانیہ میں نابالغ لڑکیوں کو غلیظ ٹیکسٹ کرنے اور ہراساں کرنے کے جرم پر گرفتار!
بھارتی جنسی درندوں سے دنیا کی کوئی عورت محفوظ نہیں pic.twitter.com/e1b7tUhwpi
— Ch Mudasir ???????? (@ij422) January 8, 2026
پولیس کی جانب سے جب بھارتی طالبعلم کو لڑکیوں کو ہراساں کرنے کے ثبوت فراہم کیے گئے تو وہ روتے ہوئے معافی مانگنے لگا کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں بھارتی طالبعلم کے موبائل فون سے ثبوت برآمد ہوئے ہیں، جن میں نامناسب چیٹ بھی شامل ہے۔
برطانوی پولیس نے بھارتی طالبعلم کو حوالات منتقل کرتے ہوئے کیس کی مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں نابالغ لڑکیوں کو ہراساں کرنے پر قوانین بہت سخت ہیں، جن کا سامنا اب بھارتی طالبعلم کو کرنا پڑےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آن لائن ہراسمنٹ برطانیہ بھارتی طالبعلم گرفتاری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ن لائن ہراسمنٹ برطانیہ بھارتی طالبعلم گرفتاری وی نیوز بھارتی طالبعلم کو نابالغ لڑکیوں کو
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔