رہنما ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امریکی جارحانہ اقدامات کا سخت نوٹس لیں اور دنیا کو ایک اور تباہ کن دورِ مداخلت اور جنگ سے بچانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ باقر عباس زیدی کا کہنا تھا کہ امریکی جارحیت عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، ٹرمپ کی جارحانہ، یکطرفہ مداخلت پسند پالیسیاں عالمی استحکام کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہیں، کسی خودمختار ملک کے سربراہ کو طاقت کے زور پر نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی امن کی صریح خلاف ورزی ہے، ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی مبینہ گرفتاری اور دیگر ممالک کے خلاف فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دینا عالمی دہشتگردی ہے، اسی طرح گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے کی خواہش کا اعادہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ آج بھی دنیا کو نوآبادیاتی نقط نظر سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا وینزویلا سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہو یا ایران کے خلاف مسلسل دھمکی آمیز رویہ، امریکی صدر کی حکمتِ عملی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے دنیا بھر میں کشیدگی، خوف اور بے یقینی کو فروغ دیا ہے۔ ٹرمپ جو ماضی میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف جھوٹے بیانات دیتے رہے، آج خود اسی سامراجی اور جارحانہ پالیسی کے علمبردار بن چکے ہیں، 2025ء میں نوبل امن انعام حاصل نہ کر پانے کے بعد اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنے کے لیے دنیا کو جنگ اور عدم استحکام کی طرف دھکیلنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طاقت کے زعم میں عالمی امن کو یرغمال بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، دنیا کو جنگ نہیں بلکہ مکالمے، انصاف اور خودمختاری کے احترام کی ضرورت ہے، خود ساختہ طاقت میں چور امریکہ کی پالیسی عالمی سامراجیت، جارحیت کی ہی رہی ہے جو انسانیت کیلئے سنگین خطرہ ہے، عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امریکی جارحانہ اقدامات کا سخت نوٹس لیں اور دنیا کو ایک اور تباہ کن دورِ مداخلت اور جنگ سے بچانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دنیا کو کے لیے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار