ملتان، آئی ایس او کے زیراہتمام عالمی سامراج کے خلاف آج احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
آئی ایس او ملتان کے ترجمان کی جانب سے جاری پیغام کے مطابق ایران سمیت دنیا بھر کے مقاومتی بلاک کے خلاف جاری عالمی صیہونی سازشوں، رہبر انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای کے خلاف ہونے والے جھوٹے پراپیگنڈے کے خلاف اور مقاومتی بلاک کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ملتان کے زیراہتمام موجودہ عالمی صورتحال، رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے خلاف سامراجی میڈیا کے پروپیگنڈے اور غزہ میں بیرونی فوج کی تعیناتی کے خلاف آج ملتان پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا، آئی ایس او ملتان کے ترجمان کی جانب سے جاری پیغام کے مطابق ایران سمیت دنیا بھر کے مقاومتی بلاک کے خلاف جاری عالمی صیہونی سازشوں، رہبر انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای کے خلاف ہونے والے جھوٹے پراپیگنڈے کے خلاف اور مقاومتی بلاک کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا مقاومتی بلاک کے خلاف
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔