data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کا ٹاؤن چیئرمین گلشن اقبال ڈاکٹر فواد احمد کے ہمراہ گلشن اقبال بلاک 13

/A خدیجۃ الکبریٰ پارک میں ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلشن اقبال کے تحت گل ِ داؤدی فلاور شو کا افتتاح کردیا۔بعدازاں منعم ظفر خان نے گل داؤدی فلاور شو کا دورہ کیا اور خوبصورت پھولوں کی نمائش کے انعقاد پر منتظمین کو خراج
تحسین پیش کیا۔امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت کراچی کے تمام ٹاؤنز کو کم ازکم 5 ارب روپے ترقیاتی بجٹ فراہم کرے، کراچی میں سندھ حکومت کے تحت جاری تمام منصوبوں کی حتمی تکمیل کی تاریخ کا اعلان کیا جائے اور ترجیحی بنیادوں پر ان منصوبوں کو مکمل کیا جائے۔ریڈ لائن منصوبہ شہریوں کے لیے اذیت بن چکا ہے،سندھ حکومت کو 2.

7 کلو میٹر کی لائن واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ذریعے ڈالنی تھی، لیکن آج تک 10 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہو سکا۔ 3256 ارب روپے انفرااسٹرکچر اور سیس کی مد میں وصول کیے گئے مگر سندھ حکومت نے کراچی کی تعمیر پر خرچ نہیں کیے۔ایک طرف جماعت اسلامی کی”حق دو کراچی“تحریک جاری ہے تو دوسری طرف کراچی کی تعمیر و ترقی کا عملی سفر بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور کراچی کے عوام کو ان کے جائز حقوق ہر صورت دلائیں گے۔گلشن اقبال ٹاؤن کے چیئرمین، ان کی پوری ٹیم اور ڈائریکٹر پارکس کو شاندارگل داؤدی کی نمائش کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ رنگ برنگے پھول کراچی کی پہچان ہیں اور یہ شہر مختلف زبانیں بولنے والوں لوگوں کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔امیرجماعت اسلامی کراچی نے کہاکہ جماعت اسلامی کے زیر انتظام 9 ٹاؤنز میں مسلسل عوامی، ثقافتی اور تفریحی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ گلشن اقبال ٹاؤن کے پارکس میں اب تک 2 یوتھ سینٹرز قائم کیے جا چکے ہیں، جو اس وقت کراچی کے کسی اور ٹاؤن میں موجود نہیں ہیں۔ ان یوتھ سینٹرز کے قیام کے ساتھ ساتھ عوام کی باقاعدہ رجسٹریشن بھی کی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں شامل کیا جا سکے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اختیارات سے بڑھ کر کام کر رہی ہے اور جن اختیارات سے محروم رکھا جا رہا ہے، ان کے حصول کے لیے بھی جدوجہد جاری ہے۔ کراچی میں بلدیہ ٹاؤن اور کیماڑی ٹاؤن جیسے علاقے موجود ہیں لیکن وہاں عملی طور پر کوئی ترقیاتی کام نظر نہیں آ رہا جبکہ جماعت اسلامی کے ٹاؤن اور یوسی چیئرمینز اختیارات نہ ہونے کے باوجود اپنے وسائل سے سیوریج لائنوں اور کچرا اٹھانے کے کام کرا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لانڈھی ٹاؤن، جناح ٹاؤن، نیو کراچی ٹاؤن سمیت دیگر ٹاؤنز میں تعمیر و ترقی کا سفر آگے بڑھ رہا ہے۔ گلشن اقبال ٹاؤن شہر کا مرکز ہے اور اصولی طور پر شہر کے تمام ٹاؤنز کو مساوی بنیادوں پر ترقیاتی بجٹ دیا جانا چاہیے، لیکن افسوس کہ ڈھائی سال گزرنے کے باوجود سندھ حکومت نے ٹاؤنز کو ایک روپے کا بھی ترقیاتی بجٹ فراہم نہیں کیا۔امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ گلشن اقبال ٹاؤن کو مرکز سے ملنے والے بجٹ میں صرف ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں جبکہ بعض ٹاؤنز کا بجٹ اتنا کم ہے کہ وہاں ملازمین کو مکمل تنخواہیں دینا بھی ممکن نہیں، اس کے باوجود جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز اپنے وسائل سے ملازمین کی تنخواہیں اور ان کے سابق واجبات ادا کر رہے ہیں۔نعیم اختر نے کہا کہ ٹاؤن چیئرمین اور باغات کے عملے کو خوبصورت اور دلکش باغ سجانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، ایسے اقدامات شہریوں کے لیے خوشگوار ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی منصوبے کی وجہ سے گلشن اقبال کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، آمدورفت میں شدید رکاوٹیں ہیں اور شہری روزمرہ زندگی میں اذیت برداشت کر رہے ہیں۔ عوام یہ کہتے ہیں کہ اگرچہ سڑکیں تباہ ہوچکی ہیں لیکن پارکس ہی وہ واحد جگہیں ہیں جہاں لوگ آزادانہ بیٹھ سکتے ہیں اور کچھ دیر سکون حاصل کر لیتے ہیں۔نعیم اختر نے کہا کہ دنیا کے میٹرو پولیٹن شہروں میں ٹاؤن کی سطح پر واٹر اینڈ سیوریج، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور پولیس جیسے اہم محکمے ٹاؤن انتظامیہ کے ماتحت ہوتے ہیں تاکہ شہری مسائل فوری طور پر حل کیے جا سکیں، لیکن بدقسمتی سے کراچی میں واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پر صوبائی حکومت نے قبضہ جما رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ میئر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیئرمین بھی ہیں لیکن عملی طور پر ایک روپے کا کام ہوتا نظر نہیں آ رہا، جس کا خمیازہ براہِ راست کراچی کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں تاکہ شہری مسائل کا مؤثر اور بروقت حل ممکن ہو سکے۔ڈاکٹر فواد نے کہا کہ گلشن اقبال ٹاؤن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اپنے قیام کے بعد پہلی مرتبہ گل داؤدی کی نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے جبکہ 2005 کے بعد آج 20 سال بعد دوبارہ اس خوبصورت نمائش کا اہتمام ممکن ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی گلشن اقبال ٹاؤن کی انتظامیہ اور بالخصوص پارکس ڈپارٹمنٹ کی محنت کا نتیجہ ہے، جنہوں نے نہایت خوبصورتی سے پھول لگائے اور پارک کو دلکش بنایا، جس پر وہ پارکس ڈپارٹمنٹ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ڈاکٹر فواد نے کہا کہ گلشن اقبال ٹاؤن میں موجود 38پارکوں میں سے اب تک 19 پارکس کا افتتاح کیا جا چکا ہے اور ٹاؤن کے بقیہ تمام پارکس بحال ہورہے ہیں جہاں عوام بڑی تعداد میں آ کر تفریح اور صحت مند سرگرمیوں سے استفادہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے 25 ٹاؤنز میں سے اس وقت 9 ٹاؤنز ایسے ہیں جہاں تعمیر و ترقی کے عملی کام جاری ہیں اور یہ تمام کام جماعت اسلامی کے وژن کے تحت انجام دیے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی نے الیکشن کے دوران عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اختیارات نہ ہونے کا بہانہ نہیں بنایا جائے گا بلکہ دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے عوامی خدمت کی جائے گی اور الحمدللہ ہم اپنے وعدے پورے کر رہے ہیں۔2023 میں عوام نے جو فیصلہ کیا تھا وہ بالکل درست ثابت ہوا ہے اور آئندہ بھی کراچی کی روشنیوں کو بحال رکھنے اور شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیتے رہیں گے۔اس موقع پر شو میں ٹاؤن چیئرمین گلشن اقبال ڈاکٹر فواد احمد نے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان اور امیر جماعت اسلامی ضلع شرقی نعیم اختر کو گلدستہ اور سندھی اجرک پیش کی۔ تقریب میں نائب امیر ضلع شرقی انجینئر عزیز الدین ظفر، وائس ٹاؤن چیئرمین ابراہیم صدیقی، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری، سینئر ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات صہیب احمد سمیت دیگر ذمے داران بھی موجود تھے۔

راصب خان اسٹاف رپورٹر

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی کراچی واٹر اینڈ سیوریج جماعت اسلامی کے گلشن اقبال ٹاؤن انہوں نے کہا کہ ٹاؤن چیئرمین سندھ حکومت ڈاکٹر فواد کر رہے ہیں کراچی کے کراچی کی ہیں اور کے لیے کیا جا ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا