جنوبی کوریا: ہم سایہ ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تحقیقات کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سیول (انٹرنیشنل ڈیسک) جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ صدر لی جے میونگ نے جنوبی کوریائی ڈرون کی شمالی کوریا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے معاملے کی مکمل اور جامع تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔وزارتِ دفاع کے مطابق اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے جو تاریخیں بتائی گئیںان دنوں جنوبی کوریائی فوج نے کسی قسم کے ڈرون استعمال نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں دکھایا گیا ڈرون جنوبی کوریائی فوج کے زیرِ استعمال کسی بھی ماڈل سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس واقعے پر شمالی و جنوبی کوریا کے درمیا ن مشترکہ تحقیقات بھی کی جا سکتی ہے۔ پیپلز آرمی آف شمالی کوریا کے جنرل اسٹاف کے ترجمان نے 9 تاریخ کو جاری ایک بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ اکتوبر 2024 ء میں پیانگ یانگ کی فضائی حدود میں ڈرون دراندازی کے واقعے کے بعد جنوبی کوریا نے نئے سال کے آغاز پر ایک بار پھر ڈرون پرواز کے ذریعے شمالی کوریا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور سنگین اشتعال انگیز اقدام کا ارتکاب کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شمالی کوریا کی کی فضائی حدود جنوبی کوریا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔