خیبرپختونخوا :سیاسی دباؤ پرمنشیات کے قانون میں ترامیم مؤخر
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260111-08-2
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک ) خیبرپختونخوا حکومت نے سیاسی دباؤ کے باعث منشیات کے قانون میں ترامیم مؤخرکردیں۔مجوزہ ترامیم میں منشیات مقدمے میں سزائے موت کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق صوبائی کابینہ نے وزیراعلیٰ پر منشیات فروشوں سے مبینہ تعلقات کے غلط الزام کے باعث مجوزہ بل واپس کیا، منشیات ایکٹ میں مجوزہ ترامیم صوبائی کابینہ سے منظوری کیلئے پیش کی گئیں تھیں۔ذرائع کے مطابق محکمہ ایکسائز و نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا نے مجوزہ ترمیمی ایکٹ تیارکیا تھا۔مجوزہ ترامیم کابینہ کمیٹی اور ذیلی کمیٹی کی متفقہ سفارشات کی روشنی میں کی گئیں، ترامیم کے تحت سزائے موت کو عمرقید کی سزا میں تبدیل کرنیکی تجویز دی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق موجودہ ایکٹ میں 3 کلوگرام ہیروئن، کوکین اور آئس پکڑے جانے کی سزا موت ہے، مجوزہ بل میں سزائے موت کے بجائے 24 سال اور 40 لاکھ روپیجرمانہ کی سزا تجویز کی گئی۔ منشیات کے دیگر مقدمات میں گرفتار ملزمان کیلئے بھی سزائیں وجرمانے مزید سخت کیے گئے تھے، محکمہ قانون نے مجوزہ ترمیمی بل کو آئینی و قانونی طور پر درست قرار دیا تھا جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جیونیوز کو بتایا کہ انہوں نیمجھ پر منشیات فروشوں سیتعلق کا غلط الزام لگایا، اس وقت کسی بھی قانون کو چھیڑنا غلط ہوگا۔ ان کا کہنا تھاکہ منشیات کے خلاف صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، اس پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، بانی پی ٹی آئی نیبھی زغفران کی کاشت کیلئے کام کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: منشیات کے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔