خیبرپختونخوا حکومت نے سیاسی دباؤ کے باعث منشیات کے قانون میں ترامیم مؤخرکردیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبرپختونخوا حکومت نے سیاسی دباؤ کے باعث منشیات کے قانون میں ترامیم مؤخرکردیں۔مجوزہ ترامیم میں منشیات مقدمے میں سزائے موت کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ صوبائی کابینہ نے وزیراعلیٰ پر منشیات فروشوں سے مبینہ تعلقات کے غلط الزام کے باعث مجوزہ بل واپس کیا، منشیات ایکٹ میں مجوزہ ترامیم صوبائی کابینہ سے منظوری کیلئے پیش کی گئیں تھیں۔
جیو نیوز کے مطابق محکمہ ایکسائز و نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا نے مجوزہ ترمیمی ایکٹ تیارکیا تھا۔مجوزہ ترامیم کابینہ کمیٹی اور ذیلی کمیٹی کی متفقہ سفارشات کی روشنی میں کی گئیں، ترامیم کے تحت سزائے موت کو عمرقید کی سزا میں تبدیل کرنےکی تجویز دی گئی تھی۔ موجودہ ایکٹ میں 3 کلوگرام ہیروئن، کوکین اور آئس پکڑے جانے کی سزا موت ہے، مجوزہ بل میں سزائے موت کے بجائے 24 سال اور 40 لاکھ روپےجرمانہ کی سزا تجویز کی گئی۔
شدید دھند کے باعث ملک بھر میں متعدد موٹرویز بند
منشیات کے دیگر مقدمات میں گرفتار ملزمان کیلئے بھی سزائیں وجرمانے مزید سخت کیے گئے تھے، محکمہ قانون نے مجوزہ ترمیمی بل کو آئینی و قانونی طور پر درست قرار دیا تھا جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جیونیوز کو بتایا کہ انہوں نےمجھ پر منشیات فروشوں سےتعلق کا غلط الزام لگایا، اس وقت کسی بھی قانون کو چھیڑنا غلط ہوگا۔ ان کا کہنا تھاکہ منشیات کے خلاف صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، اس پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، بانی پی ٹی آئی نےبھی زغفران کی کاشت کیلئے کام کیا تھا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔