پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبرپختونخوا حکومت نے سیاسی دباؤ کے باعث منشیات کے قانون میں ترامیم مؤخرکردیں۔مجوزہ ترامیم میں منشیات مقدمے میں سزائے موت کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔  صوبائی کابینہ نے وزیراعلیٰ پر منشیات فروشوں سے مبینہ تعلقات کے غلط الزام کے باعث مجوزہ بل واپس کیا، منشیات ایکٹ میں مجوزہ ترامیم صوبائی کابینہ سے منظوری کیلئے پیش کی گئیں تھیں۔

جیو نیوز کے مطابق محکمہ ایکسائز و نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا نے مجوزہ ترمیمی ایکٹ تیارکیا تھا۔مجوزہ ترامیم کابینہ کمیٹی اور ذیلی کمیٹی کی متفقہ سفارشات کی روشنی میں کی گئیں، ترامیم کے تحت سزائے موت کو عمرقید کی سزا میں تبدیل کرنےکی تجویز دی گئی تھی۔ موجودہ ایکٹ میں 3 کلوگرام ہیروئن، کوکین اور آئس پکڑے جانے کی سزا موت ہے، مجوزہ بل میں سزائے موت کے بجائے 24 سال اور 40 لاکھ روپےجرمانہ کی سزا تجویز کی گئی۔ 

شدید دھند کے باعث ملک بھر میں متعدد موٹرویز بند

منشیات کے دیگر مقدمات میں گرفتار ملزمان کیلئے بھی سزائیں وجرمانے مزید سخت کیے گئے  تھے، محکمہ قانون نے مجوزہ ترمیمی بل کو آئینی و قانونی طور پر درست قرار دیا تھا جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جیونیوز کو بتایا کہ انہوں نےمجھ پر منشیات فروشوں سےتعلق کا غلط الزام لگایا، اس وقت کسی بھی قانون کو چھیڑنا غلط ہوگا۔ ان کا کہنا تھاکہ منشیات کے خلاف صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، اس پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، بانی پی ٹی آئی نےبھی زغفران کی کاشت کیلئے کام کیا تھا۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: منشیات کے کے باعث

پڑھیں:

وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے

اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور