بلدیاتی نظام پر عوامی ریفرنڈم; تاریخوں کا اعلان ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
سٹی 42: جماعت اسلامی نے لاہور میں بلدیاتی نظام پر عوامی ریفرنڈم کی تیاریاں شروع کردیں ۔
عوامی ریفرنڈم 15 تا 18 جنوری 2026 منعقد ہوگا، تاریخوں کا باضابطہ اعلان کردیا گیا ۔ عوامی ریفرنڈم کے لیے بیلٹ باکسز کی تیاری مکمل کرلی گئی ۔ بڑی تعداد میں بیلٹ باکس تیار کرلیے گئے ۔امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری نے عوامی ریفرنڈم کے لیے 3 کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔
رمضان المبارک کے دوران شاپنگ مالزاور ریسٹورنٹس کے نئے اوقات کار؟
ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا عوامی ریفرنڈم کے ذریعے بلدیاتی نظام پر براہ راست عوامی رائے لی جائے گی ۔لاہور بھر کے اہم چوکوں اور چوراہوں پر ریفرنڈم کے دوران پولنگ اسٹیشنز / کیمپس قائم کیے جائیں گے ۔خواتین کی بھرپور شرکت یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔
پولنگ اسٹیشنز پر امن و امان اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے گا ۔
عوامی ریفرنڈم کے ذریعے بلدیاتی نظام پر عوام کی رائے لی جائے گی، خواتین کی شمولیت کے لیے خصوصی اور محفوظ انتظامات کیے جائیں گے
سونے اور چاندی کے آج کے ریٹس ۔ہفتہ 10 جنوری، 2026
عوام کو بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم کے عمل میں شامل کیا جائے گا۔حکومت پنجاب کو عوامی طاقت سے مجبور کریں گے و ہ بلدیاتی ایکٹ میں سے عوامی مفاد کی دشمن شقوں کا ختم کرے ۔پنجاب حکومت کو بلدیاتی ایکٹ میں راہ فرار حاصل نہیں کرنے دیں گے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: عوامی ریفرنڈم کے بلدیاتی نظام پر کے لیے
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔