اے این ایف کا منشیات اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈاؤن، مختلف شہروں سے 5 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
اے این ایف کا تعلیمی اداروں کے اطراف اورملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، 6 کاروائیوں کے دوران 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
کاروائیوں میں 1 کروڑ 74 لاکھ سے زائد مالیت کی 63.18 کلو گرام منشیات برآمد کرلی گئی۔
انڈسٹریل ایریا لاہور کے قریب ملزم سے 2.4 کلوگرام چرس اور 325 گرام وزنی 660 ایکسٹیسی گولیاں برآمد ہوئیں، گرفتار ملزم نے تعلیمی اداروں کے طلباء کو منشیات فروخت کرنے کا اعتراف کیا۔
حیات آباد ٹول پلازہ پشاور کے قریب گاڑی سے 36 کلو گرام افیون برآمد کرکے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ کسٹم چوک پشاور کے قریب ہیٹر میں چھپائی گئی 1.
سنگجانی ٹول پلازہ اسلام آباد کے قریب بیساکھی میں چھپائی 1.5 کلو گرام آئس اور 100 گرام چرس برآمد کرکے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
یادگار چوک لاہور میں واقع کوریئر آفس میں پارسل سے 20.16 کلو گرام وزنی 28800 والیم گولیاں برآمد ہوئیں۔
شپنگ ایریا کراچی میں واقع کوریئر آفس میں پارسل سے 106.4 کلو گرام وزنی 364800 والیم گولیاں برآمد ہوئیں۔
ملزمان کیخلاف انسداد منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گرفتار کرلیا گیا کلو گرام کے قریب
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔