حیدر آباد؛ بڑی ہاؤس رابریز میں ملوث گینک کا اہم رکن مقابلے میں ہلاک، ناجائز اسلحہ برآمد
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
حیدرآباد:
شہر کے مختلف علاقوں میں بڑی ہاؤس رابریز میں ملوث ایک خطرناک گینگ کے اہم رکن کو پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا گیا جبکہ اس کے دیگر ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس کے مطابق مقابلہ گرڈ اسٹیشن علمدار چوک کے قریب ہوا، مشتبہ افراد نے پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کردی جس پر پولیس نے اپنے دفاع میں جوابی فائرنگ کی۔ دوبدو فائرنگ کے نتیجے میں ہاؤس رابریز گینگ کا ایک اہم رکن زخمی حالت میں گرفتار ہوا، تاہم اسپتال منتقل کرتے ہوئے وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔
ہلاک ملزم کی شناخت بدنام زمانہ ڈکیت فرحان مقبول، ساکن رحیم یار خان کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فرحان مقبول کے خلاف مجموعی طور پر 12 مقدمات درج تھے، جن میں 8 مقدمات پنجاب میں ہاؤس رابریز اور ناجائز اسلحہ، جبکہ 4 مقدمات حیدرآباد میں ہاؤس رابریز اور پولیس مقابلوں کے شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق ہلاک ملزم ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک ڈکیتی کیس میں اشتہاری بھی تھا۔
پولیس نے بتایا کہ فرحان مقبول سال 2025 کے دوران حیدرآباد کے علاقوں بٹھائی نگر، قاسم آباد اور لطیف آباد میں ہونے والی بڑی ہاؤس رابریز کی وارداتوں میں ملوث رہا۔ ملزمان واردات کے دوران کار کا استعمال کرتے تھے۔
پولیس کے مطابق مقابلے کے دوران گینگ کے دیگر ارکان عظمت گجر، شاہد جٹ، عمران تانی اور ایک نامعلوم ملزم فرار ہوگئے، جو حیدرآباد میں ہاؤس رابریز کے مقدمات میں مطلوب ہیں۔ پولیس نے ہلاک ملزم سے ناجائز اسلحہ بھی برآمد کرلیا ہے، جبکہ ملزمان کی وارداتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی جاری کردی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد انہیں بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں ہاؤس رابریز
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔