لاہور : نجی یونیورسٹی میں طالبہ کے اقدام خودکشی کے کیس میں پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
لاہور: نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش کے کیس میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے 21 سالہ طالبہ فاطمہ کی خودکشی کی کوشش کے کیس میں شامل تفتیش کیے گئے نوجوان کو کلیئر قرار دے دیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق واقعہ مکمل طور پر ذاتی نوعیت کا ہے اور اس میں کسی دوسرے شخص کا ملوث ہونا ثابت نہیں ہوا۔پولیس کے مطابق نوجوان کی واقعے میں کوئی ذمے داری یا غفلت ثابت نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ طالبہ کے اقدام خودکشی پر کسی کے خلاف تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے جب کہ وجوہات کا تعین کرنے کے لیے کال ریکارڈ اور دیگر شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کی حالت بہتر ہونے پر تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ واقعے سے چند روز قبل اسی یونیورسٹی میں ایک طالب علم نے بھی چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔