مریم نواز ہونہار سکالرشپ ،طلبہ مشکلات کا شکار، مستقبل خطرے میں
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
مریم نواز ہونہار سکالرشپ ،طلبہ مشکلات کا شکار، مستقبل خطرے میں WhatsAppFacebookTwitter 0 9 January, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس ) مریم نواز ہونہار سکالرشپ پروگرام کے تحت مستفید ہونے والے طلبہ شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ذرائع کے مطابق فیس جمع کرانے کی آخری تاریخ قریب آ چکی ہے جبکہ متعدد جامعات نے فیس کی عدم ادائیگی پر طلبہ کو وارننگ دینا شروع کر دی ہے، پنجاب بھر کے 100 ہائر ایجوکیشن اداروں میں زیر تعلیم تقریبا 85 ہزار طلبہ اس سکالرشپ پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں تاہم قسط میں تاخیر نے طلبہ اور ان کے اہل خانہ کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن (پی ایچ ای سی) ڈاکٹر اقرار نے انکشاف کیا ہے کہ سکالرشپ کی تاخیر کی بڑی وجہ جامعات کی جانب سے رزلٹ انوائس ارسال نہ کیا جانا ہے،100 میں سے صرف 25 تعلیمی اداروں نے اب تک اپنی انوائسز جمع کروائی ہیں جبکہ باقی اداروں کی جانب سے مطلوبہ دستاویزات موصول نہیں ہو سکیں۔ڈاکٹر اقرار کے مطابق جب تک جامعات کی جانب سے انوائس موصول نہیں ہوتیں
، سکالرشپس جاری کرنا ممکن نہیں، تعلیمی اداروں کو انوائس جمع کرانے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دے دی گئی ہے تاہم اگر مقررہ مدت میں انوائس موصول نہ ہوئیں تو سکالرشپس منسوخ کر دی جائیں گی۔ مزید برآں چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے جامعات کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ذمہ دار اداروں کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکسی قانون کو نہیں مانتا، ہر ملک میں کارروائی کے لیے آزاد ہوں: ٹرمپ کسی قانون کو نہیں مانتا، ہر ملک میں کارروائی کے لیے آزاد ہوں: ٹرمپ دہشتگردوں کے خلاف کاروائی،پاکستان سے تعلقات بہتر کیے جائیں,چین کا طالبان سے مطالبہ رمضان المبارک ،وزیر اعظم کی موثر پیکج تیار کرنے کی ہدایت،ٹار گٹڈ سبسڈی کا حکم پاک امریکا تعلقات مضبوط ترین سطح پر، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع عمران خان کو جیل سے نکالیں گے، پورا پاکستان بند کریں گے، نہیں چلنے دیں گے، علیمہ خان افغان طالبان رجیم کے 4 سالہ دور میں ہونے والی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی رپورٹ جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔