نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے جدہ میں منعقدہ او آئی سی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے عالمی سطح پر امن، تحفظ اور مختلف ممالک میں ترقیاتی اور ادارہ جاتی اقدامات کی حفاظت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو غیر قانونی اقدامات کے اثرات سے خبردار رہنا چاہیے اور ترقی یافتہ ممالک اور اداروں کے تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

خطاب میں نائب وزیر اعظم نے خاص طور پر افریقہ اور ایشیا میں جاری چیلنجز پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ بعض ممالک میں انسانی اور اقتصادی نقصان، ادارہ جاتی کمزوریوں اور ترقیاتی منصوبوں کی ناکامی قابلِ تشویش ہیں۔ انہوں نے صومالیہ کی صورتحال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں وفاقی حکومت نے صلح، آئینی اصلاحات اور ریاستی اداروں کے قیام میں نمایاں پیش رفت نہیں کی۔

انہوں نے زور دیا کہ صومالیہ میں استحکام اور ترقیاتی اقدامات کی حمایت ہر ملک کے لیے ناگزیر ہے اور کسی بھی ذاتی یا غیر ذمہ دارانہ اقدام سے نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ مقامی عوام کی مذہبی آزادی، ترقی اور خطے میں امن و تحفظ کے امکانات کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون اور تجربات کے ذریعے مثبت اقدامات کو مزید مضبوط کرنا ضروری ہے تاکہ صومالیہ اور خطے میں استحکام قائم رہے۔

نائب وزیر اعظم نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ امن، ترقی اور متنوع معاشرتی ڈھانچے کی حفاظت کے لیے فعال کردار ادا کریں اور کسی بھی غیر قانونی یا خطرناک اقدام سے خطے کی مجموعی ترقی اور تحفظ کو خطرے میں نہ ڈالیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار