عالمی سیاست میں چھوٹے ممالک کی بقا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
عالمی سیاست طاقت کا کھیل ہے اور اس کھیل میں اکثر چھوٹے ممالک مہرے سمجھے جاتے ہیں۔ بڑی طاقتیں اپنی معاشی، عسکری اور سفارتی قوت کے بل پر عالمی فیصلوں کی سمت متعین کرتی ہیں، جب کہ کمزور اور متوسط ممالک ان فیصلوں کے اثرات بھگتنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ چھوٹے ممالک محض مجبور فریق نہیں ہوتے بشرطیکہ وہ اپنی حکمتِ عملی، ترجیحات اور قومی مفاد کو واضح رکھیں۔
چھوٹے ممالک کی سب سے بڑی کمزوری ان کا جغرافیہ نہیں بلکہ ان کی داخلی کمزوری ہوتی ہے۔ جب ریاست اندر سے منقسم، معاشی طور پر ناتواں اور ادارہ جاتی طور پر کمزور ہو، تو عالمی طاقتیں اسے آسانی سے دباؤ میں لے لیتی ہیں۔
اس کے برعکس، وہ چھوٹے ممالک جو داخلی استحکام، واضح خارجہ پالیسی اور قومی اتفاقِ رائے قائم کر لیتے ہیں، وہ عالمی سیاست میں اپنا وزن پیدا کر لیتے ہیں۔
دنیا میں سنگاپور، قطر، ناروے اور فن لینڈ جیسے ممالک اس کی مثال ہیں۔ آبادی اور رقبے میں محدود ہونے کے باوجود انھوں نے تعلیم، معیشت، سفارت کاری اور ادارہ جاتی شفافیت کو اپنی طاقت بنایا۔
ان ممالک نے کسی ایک طاقت پر اندھا انحصار کرنے کے بجائے توازن (Balance) اور مفاد (Interest) کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنایا۔ چھوٹے ممالک کے لیے سب سے خطرناک راستہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کی پراکسی بن جائیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایسی ریاستیں وقتی فائدہ تو حاصل کر لیتی ہیں مگر طویل مدت میں خودمختاری، وقار اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کھو بیٹھتی ہیں۔ افغانستان، عراق اور لیبیا جیسے ممالک اس حقیقت کی تلخ مثال ہیں کہ بڑی طاقتوں کی جنگیں ہمیشہ چھوٹوں کی زمین پر لڑی جاتی ہیں۔
عالمی سیاست میں بقا کا اصل ہتھیار عسکری قوت نہیں بلکہ دانشمندانہ سفارت کاری ہے۔ مضبوط خارجہ سروس، پیشہ ورانہ مذاکرات، علاقائی تعاون اور اقتصادی خودانحصاری… یہ وہ ستون ہیں جن پر چھوٹے ممالک اپنی بقا کی عمارت کھڑی کر سکتے ہیں۔
ساتھ ہی، عالمی قوانین، بین الاقوامی اداروں اور کثیرالجہتی فورمز کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا بھی چھوٹے ممالک کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے سبق واضح ہے۔
جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی، اندرونی استحکام اور قومی مفاد پر مبنی فیصلے ہی عالمی سیاست میں عزت اور بقا کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
طاقتور بننے کی خواہش فطری ہے، مگر دانشمند بننا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے کیونکہ عالمی سیاست میں چھوٹے ممالک کی بقا طاقت سے نہیں، سمجھداری سے ہوتی ہے۔
عالمی سیاست طاقت کے عدم توازن پر قائم ہے اور اس نظام میں پاکستان جیسے ممالک نہ مکمل طور پر طاقتور ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر کمزو بلکہ ایک ایسے خطے میں موجود ہیں جہاں ہر عالمی اور علاقائی طاقت کے مفادات آپس میں ٹکراتے ہیں۔ یہی جغرافیائی اہمیت پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے اور سب سے بڑی آزمائش بھی۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہم نے اکثر اپنی اہمیت کو طاقت سمجھ لیا اور طاقت کے توازن کو مفاد کے توازن پر ترجیح دی۔ سرد جنگ سے لے کر نائن الیون کے بعد تک، پاکستان بارہا عالمی طاقتوں کی ترجیحات کا حصہ بنا مگر شراکت دار کم اور مہرہ زیادہ رہا۔
پاکستان کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ وہ چھوٹا یا کمزور ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی قومی ترجیحات میں تسلسل نہیں۔ خارجہ پالیسی اکثر داخلی سیاسی کشمکش، وقتی دباؤ اور جذباتی بیانیوں کے زیرِ اثر رہی۔ دنیا کے کامیاب چھوٹے ممالک نے ایک بات واضح رکھی: ریاستیں دوست نہیں، مفادات رکھتی ہیں۔
ہم نے اس اصول کو تسلیم کرنے کے بجائے بارہا وقتی اتحادوں کو مستقل ضمانت سمجھ لیا۔ عالمی سیاست میں پاکستان کی بقا کا دارومدار عسکری اہمیت سے زیادہ معاشی وقار پر ہے۔
دنیا اب ان ممالک کو سنجیدگی سے لیتی ہے جو عالمی معیشت میں اپنا کردار رکھتے ہوں، جن کی برآمدات، انسانی وسائل اور ٹیکنالوجی قابلِ قدر ہوں۔ قرض پر چلنے والی ریاستیں، چاہے جغرافیائی طور پر کتنی ہی اہم کیوں نہ ہوں، فیصلہ سازی میں آزاد نہیں رہ سکتیں۔
پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی سیاست میں بقا کا سوال یہ نہیں کہ آپ کس کے ساتھ کھڑے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ خود کتنے مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالمی سیاست میں خارجہ پالیسی جیسے ممالک
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔