مذاکرات جن کا کام ہے وہی کریں گے، وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف سے مذاکرات کرنا جن کا کام ہے، وہی کریں گے۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں محسن نقوی نے خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کے پی حکومت سے پوچھیں کہ اپنے افسران کے تحفظ کے لیے کیا کیا؟
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ یہ تو گاڑیاں لینے سے بھی انکاری ہوجاتے ہیں۔ ان سے پوچھیں کہ کیا افسران کو گاڑیاں دے دیں؟
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین تانگے کی سواری ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے سے نکل گیا۔ پاکستان کی معیشت اب محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ترسیلاتِ زر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔