فلسطین اور صومالیہ میں استحکام کیلئے عالمی تعاون ضروری ہے،اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک:نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے جدہ میں منعقدہ او آئی سی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے عالمی سطح پر امن، تحفظ اور مختلف ممالک میں ترقیاتی اور ادارہ جاتی اقدامات کی حفاظت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو غیر قانونی اقدامات کے اثرات سے خبردار رہنا چاہیے اور ترقی یافتہ ممالک اور اداروں کے تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
خطاب میں نائب وزیر اعظم نے خاص طور پر افریقہ اور ایشیا میں جاری چیلنجز پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ بعض ممالک میں انسانی اور اقتصادی نقصان، ادارہ جاتی کمزوریوں اور ترقیاتی منصوبوں کی ناکامی قابلِ تشویش ہیں۔
رمضان المبارک کے دوران شاپنگ مالزاور ریسٹورنٹس کے نئے اوقات کار؟
DPM/FM Ishaq Dar @MIshaqDar50 has reached the OIC Secretariat to participate in 22nd Extraordinary Session of the OIC Council of Foreign Ministers on Israel’s recognition of Somaliland.
انہوں نے صومالیہ کی صورتحال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں وفاقی حکومت نے صلح، آئینی اصلاحات اور ریاستی اداروں کے قیام میں نمایاں پیش رفت نہیں کی۔
انہوں نے زور دیا کہ صومالیہ میں استحکام اور ترقیاتی اقدامات کی حمایت ہر ملک کے لیے ناگزیر ہے اور کسی بھی ذاتی یا غیر ذمہ دارانہ اقدام سے نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ مقامی عوام کی مذہبی آزادی، ترقی اور خطے میں امن و تحفظ کے امکانات کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
سونے اور چاندی کے آج کے ریٹس ۔ہفتہ 10 جنوری، 2026
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون اور تجربات کے ذریعے مثبت اقدامات کو مزید مضبوط کرنا ضروری ہے تاکہ صومالیہ اور خطے میں استحکام قائم رہے۔
نائب وزیر اعظم نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ امن، ترقی اور متنوع معاشرتی ڈھانچے کی حفاظت کے لیے فعال کردار ادا کریں اور کسی بھی غیر قانونی یا خطرناک اقدام سے خطے کی مجموعی ترقی اور تحفظ کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔