عمران خان سانحہ 9 مئی کے براہ راست ذمہ دار، سزا بھی ہوگی: اکبر ایس بابر
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو سانحہ 9 مئی کا براہ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انہیں اس کیس میں بھی سزا کی پیش گوئی کر دی۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک اور شیخ مجیب الرحمان پیدا نہیں ہونا چاہیے،اگر حکومت پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد کرتی تو سانحہ 9 مئی نہ ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ملک دشمن سیاست سے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا، میں بانی کو غدار کا لیبل نہیں دینا چاہتا یہ سپریم کورٹ کا کام ہے۔
گورنر سندھ سے وزیر ریلوے حنیف عباسی کی ملاقات
اکبر ایس بابر نےانکشاف کیا بانی پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے ذریعے مقدمات کا خاتمہ اور مُک مُکا کرنا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی پر میرے تمام الزامات عدالت میں ثابت ہوئے، خیبرپختونخوا میں یہ ہمیں پتھر کے زمانے کی طرف لے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت شہیدوں کے جنازے کو کندھا دینے کیلئے تیار نہیں، پی ٹی آئی والے دہشت گرد کو دہشت گرد کیوں نہیں کہتے؟ پاکستان کا دفاع مضبوط نہ ہو تو کیا بھارت ہمیں بخشے گا؟
انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے نامزد کردہ اپوزیشن لیڈرز کی تقرری کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سزا یافتہ شخص کے نامزد اپوزیشن لیڈر کی تقرری غیرقانونی ہوگی۔
پاکستان صومالیہ کے علاقائی استحکام کی غیر مشروط مکمل حمایت کرتا ہے: اسحاق ڈار
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اکبر ایس بابر پی ٹی آئی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔