مشرقِ وسطیٰ: نظریاتی کشمکش، طاقت اور نیا اسٹرٹیجک توازن
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260111-03-5
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی بساط پر طاقت، نظریے اور مفاد کی کشمکش کبھی محض سفارتی بیانیوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ عالمی طاقتوں کے اعصاب، مالیاتی نظام اور بین الاقوامی تعلقات کی نزاکت کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں خطے کے دو مؤثر اسلامی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی فکری و اسٹرٹیجک خلیج نے اسی حقیقت کو ایک نئے اور نہایت پیچیدہ انداز میں اْجاگر کیا ہے۔ ایک جانب وہ ریاست کھڑی ہے جس نے علاقائی تنازعات کو ٹھنڈا کرنے، کشیدگی کو قابو میں رکھنے اور اپنی داخلی و خارجی حکمت ِ عملی کو معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کی توسیع سے جوڑنے کی سعی کی ہے۔ دوسری طرف وہ ملک ہے جو نظریاتی محرکات، وسیع جغرافیائی اثرانداز قوت اور پراکسی نیٹ ورکس کی عملی سیاست کے ذریعے ایک ایسے کردار کے طور پر ابھر رہا ہے جس کے عزائم کو ماہرین سلطنتی نوعیت کا رجحان قرار دیتے ہیں۔ یہی متضاد جہتیں خطے کی نئی طاقتاتی ترتیب کو نہ صرف بکھیر رہی ہیں بلکہ عالمی نظام کے توازن پر بھی گہرے سوالات کھڑے کر رہی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا اور معروف تحقیقی اداروں کی رپورٹس کے مطابق یمن، سوڈان اور بحیرۂ احمر کے گرد ابھرنے والے تنازعات محض مقامی بحران نہیں رہے، بلکہ یہ بیرونی سرمایہ کاری، عالمی تجارت، توانائی کی رسد اور حساس سفارتی مذاکرات تک اپنی بازگشت رکھتے ہیں۔ معاشی ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ جب دو ایسے ممالک جن کا اثرو رسوخ خلیج سے افریقا اور مشرقِ وسطیٰ سے بین الاقوامی معیشت تک پھیلا ہوا ہو اپنی پالیسی ترجیحات کے باب میں ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے ہو جائیں، تو نتیجتاً عالمی منڈیوں میں غیر یقینی، علاقائی اتحادوں میں اضطراب اور عالمی سفارت کاری میں پیچیدگی بڑھ جاتی ہے۔ ایک طرف مفاہمتی اور حقیقت پسندانہ رویے کے ذریعے تنازعات کو سمیٹنے کا تصور پروان چڑھتا دکھائی دیتا ہے، دوسری طرف نظریاتی خود اعتمادی اور پراکسی ڈھانچوں کے ذریعے قوت کے پھیلاؤ کا ماڈل سامنے آتا ہے، جو خطے میں طاقت کا توازن بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سیاسی اور عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق اس کشمکش کا سب سے نازک پہلو یہ ہے کہ اسے محض دو ریاستوں کی سرد مہری سمجھ لینا ایک بڑی سادہ انگاری ہوگی۔ یہ معاملہ اس سے کہیں آگے، ایک وسیع تر حکمت ِ عملی کے تصادم کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک ملک نے گزشتہ برسوں میں علاقائی کشیدگی کم کرنے، سفارتی راستوں کو ترجیح دینے، سرمایہ کاری پر مبنی اشتراک بڑھانے اور اپنے معاشی وژن کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ اس کے برعکس، دوسرا ملک غیر ریاستی ملیشیاؤں، متوازی سیکورٹی نیٹ ورکس اور نظریاتی ہمدردی رکھنے والے گروہوں کے ذریعے خطے میں ایک ایسے اثرو رسوخ کا جال بْن رہا ہے جو سرحدی حدود سے نکل کر افریقا، مشرقی بحیرۂ روم اور بحیرۂ احمر تک پھیلتا جا رہا ہے۔ یہی پراکسی ماڈل نہ صرف عسکری توازن میں خلل ڈالتا ہے بلکہ ریاستی خود مختاری اور علاقائی نظم کے سوال کو بھی مزید الجھا دیتا ہے۔
امریکی و یورپی پالیسی حلقوں میں یہ صورتِ حال واشنگٹن اور عالمی طاقتوں کے لیے ایک سخت امتحان کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ عالمی میڈیا کی متعدد رپورٹس میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے باہمی اختلافات اگر اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو یہ عالمی سرمایہ کاری کے بہاؤ کو متاثر کر سکتے ہیں، مالیاتی منصوبوں کو غیر یقینی سے دوچار کر سکتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر جاری حساس مذاکرات خواہ وہ توانائی کی راہداریوں سے متعلق ہوں یا سیکورٹی تعاون سے انہیں کسی بھی مرحلے پر تعطل کا شکار کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی فیصلہ ساز حلقے اسے محض ایک علاقائی سیاسی اختلاف نہیں، بلکہ عالمی طاقت کے توازن کے لیے ایک ممکنہ خطرہ تصور کر رہے ہیں۔
سیاسی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب کسی خطے میں نظریاتی خود تصور اور حقیقت پسندانہ اسٹیٹ کرافٹ کا ٹکراؤ شدت اختیار کرے تو اس کے اثرات صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہتے۔ خطے کے چھوٹے ممالک، غیر مستحکم ریاستیں اور معاشی طور پر کمزور معاشرے ایسے تصادم کی زد میں سب سے پہلے آتے ہیں۔ آج یہی منظرنامہ یمن اور سوڈان کے تنازعات میں جھلکتا ہے، جہاں پراکسی گروہ، متوازی وفاداریاں اور خارجہ اثرات، ریاستی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی تناظر میں ماہرین اسے محض علاقائی سیاست نہیں بلکہ طاقت کی نئی عالمی انجینئرنگ کا مظہر قرار دیتے ہیں جہاں عسکری اور سفارتی حکمت ِ عملی کے ساتھ بیانیاتی جنگ بھی اسی شدت کے ساتھ جاری ہے۔
ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ خطے میں ابھرنے والا یہ تناؤ کسی ایک سمت میں نہیں جا رہا بلکہ دو مختلف راستوں کو ایک ہی وقت میں کھول رہا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جو معاشی تعاون، سرمایہ کاری، علاقائی مفاہمت اور ریاستی استحکام کو ترجیح دیتا ہے؛ دوسرا راستہ نظریاتی توسیع، پراکسی اثرو رسوخ، اسٹرٹیجک رسائی اور طاقت کے علامتی اظہار سے عبارت ہے۔ انہی متوازی راستوں نے وہ صورتحال پیدا کی ہے جسے بعض عالمی مبصرین ’’نئے اسلامی محور‘‘ کے ابھرنے سے تعبیر کرتے ہیں ایک ایسا محور جو بظاہر اشتراک سے زیادہ رقابت کی سمت میں حرکت کر رہا ہے، اور جس کے اثرات خطے سے باہر تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
اس تناظر میں سوال یہ نہیں کہ کون سی ریاست درست ہے اور کون سی غلط؛ اصل سوال یہ ہے کہ طاقت کی یہ نئی کشمکش خطے کے مستقبل کو کس سمت لے جائے گی۔ اگر یہ اختلافات اس نہج پر پہنچ گئے کہ سفارتی مکالمہ نیچے چلا جائے اور پراکسی مقابلہ صف ِ اوّل میں آ جائے، تو اس کا نتیجہ دیرپا عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے ایک ایسا عدم توازن جو عالمی معیشت، توانائی کی رسد، بحری راستوں کی سلامتی اور بین الاقوامی سفارت کاری کے بنیادی ڈھانچوں تک کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ لمحہ عالمی برادری، علاقائی قیادتوں اور خود اِن دونوں طاقتور اسلامی ممالک کے لیے سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔ تاریخ یہ گواہی دیتی ہے کہ نظریاتی کشش اور طاقت کے توسیعی رجحانات جب سفارتی توازن اور ذمے دارانہ ریاستی حکمت ِ عملی پر غالب آ جائیں، تو نتیجتاً خرابی کا دائرہ بہت وسیع ہو جاتا ہے۔ آج مشرقِ وسطیٰ اسی موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ایک طرف مفاہمت، معاشی حقیقت پسندی اور ذمے دارانہ اسٹرٹیجی کا راستہ موجود ہے، اور دوسری طرف پراکسی مقابلہ، نظریاتی کشمکش اور طاقت کی اعصابی سیاست۔ یہ فیصلہ اب خطے کی قیادتوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ کو کس سمت موڑتی ہیں استحکام کی طرف یا تصادم کی طرف کیونکہ اس بساط پر ہونے والی ہر حرکت محض دو ممالک تک محدود نہیں، بلکہ عالمی نظام کے اعصاب تک سرایت رکھتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی سرمایہ کاری بلکہ عالمی کے ذریعے دیتا ہے کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔