Jasarat News:
2026-06-03@02:30:21 GMT

مشرقِ وسطیٰ: نظریاتی کشمکش، طاقت اور نیا اسٹرٹیجک توازن

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260111-03-5

 

 

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی

مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی بساط پر طاقت، نظریے اور مفاد کی کشمکش کبھی محض سفارتی بیانیوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ عالمی طاقتوں کے اعصاب، مالیاتی نظام اور بین الاقوامی تعلقات کی نزاکت کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں خطے کے دو مؤثر اسلامی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی فکری و اسٹرٹیجک خلیج نے اسی حقیقت کو ایک نئے اور نہایت پیچیدہ انداز میں اْجاگر کیا ہے۔ ایک جانب وہ ریاست کھڑی ہے جس نے علاقائی تنازعات کو ٹھنڈا کرنے، کشیدگی کو قابو میں رکھنے اور اپنی داخلی و خارجی حکمت ِ عملی کو معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کی توسیع سے جوڑنے کی سعی کی ہے۔ دوسری طرف وہ ملک ہے جو نظریاتی محرکات، وسیع جغرافیائی اثرانداز قوت اور پراکسی نیٹ ورکس کی عملی سیاست کے ذریعے ایک ایسے کردار کے طور پر ابھر رہا ہے جس کے عزائم کو ماہرین سلطنتی نوعیت کا رجحان قرار دیتے ہیں۔ یہی متضاد جہتیں خطے کی نئی طاقتاتی ترتیب کو نہ صرف بکھیر رہی ہیں بلکہ عالمی نظام کے توازن پر بھی گہرے سوالات کھڑے کر رہی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا اور معروف تحقیقی اداروں کی رپورٹس کے مطابق یمن، سوڈان اور بحیرۂ احمر کے گرد ابھرنے والے تنازعات محض مقامی بحران نہیں رہے، بلکہ یہ بیرونی سرمایہ کاری، عالمی تجارت، توانائی کی رسد اور حساس سفارتی مذاکرات تک اپنی بازگشت رکھتے ہیں۔ معاشی ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ جب دو ایسے ممالک جن کا اثرو رسوخ خلیج سے افریقا اور مشرقِ وسطیٰ سے بین الاقوامی معیشت تک پھیلا ہوا ہو اپنی پالیسی ترجیحات کے باب میں ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے ہو جائیں، تو نتیجتاً عالمی منڈیوں میں غیر یقینی، علاقائی اتحادوں میں اضطراب اور عالمی سفارت کاری میں پیچیدگی بڑھ جاتی ہے۔ ایک طرف مفاہمتی اور حقیقت پسندانہ رویے کے ذریعے تنازعات کو سمیٹنے کا تصور پروان چڑھتا دکھائی دیتا ہے، دوسری طرف نظریاتی خود اعتمادی اور پراکسی ڈھانچوں کے ذریعے قوت کے پھیلاؤ کا ماڈل سامنے آتا ہے، جو خطے میں طاقت کا توازن بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سیاسی اور عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق اس کشمکش کا سب سے نازک پہلو یہ ہے کہ اسے محض دو ریاستوں کی سرد مہری سمجھ لینا ایک بڑی سادہ انگاری ہوگی۔ یہ معاملہ اس سے کہیں آگے، ایک وسیع تر حکمت ِ عملی کے تصادم کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک ملک نے گزشتہ برسوں میں علاقائی کشیدگی کم کرنے، سفارتی راستوں کو ترجیح دینے، سرمایہ کاری پر مبنی اشتراک بڑھانے اور اپنے معاشی وژن کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ اس کے برعکس، دوسرا ملک غیر ریاستی ملیشیاؤں، متوازی سیکورٹی نیٹ ورکس اور نظریاتی ہمدردی رکھنے والے گروہوں کے ذریعے خطے میں ایک ایسے اثرو رسوخ کا جال بْن رہا ہے جو سرحدی حدود سے نکل کر افریقا، مشرقی بحیرۂ روم اور بحیرۂ احمر تک پھیلتا جا رہا ہے۔ یہی پراکسی ماڈل نہ صرف عسکری توازن میں خلل ڈالتا ہے بلکہ ریاستی خود مختاری اور علاقائی نظم کے سوال کو بھی مزید الجھا دیتا ہے۔

امریکی و یورپی پالیسی حلقوں میں یہ صورتِ حال واشنگٹن اور عالمی طاقتوں کے لیے ایک سخت امتحان کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ عالمی میڈیا کی متعدد رپورٹس میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے باہمی اختلافات اگر اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو یہ عالمی سرمایہ کاری کے بہاؤ کو متاثر کر سکتے ہیں، مالیاتی منصوبوں کو غیر یقینی سے دوچار کر سکتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر جاری حساس مذاکرات خواہ وہ توانائی کی راہداریوں سے متعلق ہوں یا سیکورٹی تعاون سے انہیں کسی بھی مرحلے پر تعطل کا شکار کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی فیصلہ ساز حلقے اسے محض ایک علاقائی سیاسی اختلاف نہیں، بلکہ عالمی طاقت کے توازن کے لیے ایک ممکنہ خطرہ تصور کر رہے ہیں۔

سیاسی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب کسی خطے میں نظریاتی خود تصور اور حقیقت پسندانہ اسٹیٹ کرافٹ کا ٹکراؤ شدت اختیار کرے تو اس کے اثرات صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہتے۔ خطے کے چھوٹے ممالک، غیر مستحکم ریاستیں اور معاشی طور پر کمزور معاشرے ایسے تصادم کی زد میں سب سے پہلے آتے ہیں۔ آج یہی منظرنامہ یمن اور سوڈان کے تنازعات میں جھلکتا ہے، جہاں پراکسی گروہ، متوازی وفاداریاں اور خارجہ اثرات، ریاستی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی تناظر میں ماہرین اسے محض علاقائی سیاست نہیں بلکہ طاقت کی نئی عالمی انجینئرنگ کا مظہر قرار دیتے ہیں جہاں عسکری اور سفارتی حکمت ِ عملی کے ساتھ بیانیاتی جنگ بھی اسی شدت کے ساتھ جاری ہے۔

ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ خطے میں ابھرنے والا یہ تناؤ کسی ایک سمت میں نہیں جا رہا بلکہ دو مختلف راستوں کو ایک ہی وقت میں کھول رہا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جو معاشی تعاون، سرمایہ کاری، علاقائی مفاہمت اور ریاستی استحکام کو ترجیح دیتا ہے؛ دوسرا راستہ نظریاتی توسیع، پراکسی اثرو رسوخ، اسٹرٹیجک رسائی اور طاقت کے علامتی اظہار سے عبارت ہے۔ انہی متوازی راستوں نے وہ صورتحال پیدا کی ہے جسے بعض عالمی مبصرین ’’نئے اسلامی محور‘‘ کے ابھرنے سے تعبیر کرتے ہیں ایک ایسا محور جو بظاہر اشتراک سے زیادہ رقابت کی سمت میں حرکت کر رہا ہے، اور جس کے اثرات خطے سے باہر تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اس تناظر میں سوال یہ نہیں کہ کون سی ریاست درست ہے اور کون سی غلط؛ اصل سوال یہ ہے کہ طاقت کی یہ نئی کشمکش خطے کے مستقبل کو کس سمت لے جائے گی۔ اگر یہ اختلافات اس نہج پر پہنچ گئے کہ سفارتی مکالمہ نیچے چلا جائے اور پراکسی مقابلہ صف ِ اوّل میں آ جائے، تو اس کا نتیجہ دیرپا عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے ایک ایسا عدم توازن جو عالمی معیشت، توانائی کی رسد، بحری راستوں کی سلامتی اور بین الاقوامی سفارت کاری کے بنیادی ڈھانچوں تک کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہ لمحہ عالمی برادری، علاقائی قیادتوں اور خود اِن دونوں طاقتور اسلامی ممالک کے لیے سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔ تاریخ یہ گواہی دیتی ہے کہ نظریاتی کشش اور طاقت کے توسیعی رجحانات جب سفارتی توازن اور ذمے دارانہ ریاستی حکمت ِ عملی پر غالب آ جائیں، تو نتیجتاً خرابی کا دائرہ بہت وسیع ہو جاتا ہے۔ آج مشرقِ وسطیٰ اسی موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ایک طرف مفاہمت، معاشی حقیقت پسندی اور ذمے دارانہ اسٹرٹیجی کا راستہ موجود ہے، اور دوسری طرف پراکسی مقابلہ، نظریاتی کشمکش اور طاقت کی اعصابی سیاست۔ یہ فیصلہ اب خطے کی قیادتوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ کو کس سمت موڑتی ہیں استحکام کی طرف یا تصادم کی طرف کیونکہ اس بساط پر ہونے والی ہر حرکت محض دو ممالک تک محدود نہیں، بلکہ عالمی نظام کے اعصاب تک سرایت رکھتی ہے۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی سرمایہ کاری بلکہ عالمی کے ذریعے دیتا ہے کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار