کراچی اسکواش ٹورنامنٹ: ریفری سے نامناسب رویے پر مصری کھلاڑی کے خلاف کمیٹی تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
پروفیشنل اسکواش ایسوسی ایشن (PSA) نے کراچی انٹرنیشنل اسکواش ٹورنامنٹ میں ریفری کے ساتھ نامناسب رویہ اپنانے والے مصری کھلاڑی کے خلاف تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
دوران میچ عالمی نمبر 15 فیرس ڈیسوکی نے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور ریفری سجاد خان کے ساتھ بدتمیزی کی، جس پر ریفری نے اس واقعے کی رپورٹ PSA کو جمع کروائی۔
یہ واقعہ ڈی اے کریک کلب میں جاری ٹورنامنٹ کے دوسرے راؤنڈ میں پیش آیا، جب عالمی انڈر 23 چیمپئن اور عالمی نمبر 38 نور زمان کے خلاف میچ کے دوران فیرس ڈیسوکی نے فیصلے پر سخت غصہ ظاہر کیا، ریفری سے بار بار بحث کی اور قومیت کے بارے میں بھی سوالات کیے۔ بار بار انتباہ کے باوجود کھلاڑی کورٹ سے باہر آ کر ریفری کے ساتھ بحث و جدل کرتا رہا اور چیخ و پکار کی۔
ذرائع کے مطابق، PSA کی قائم کردہ کمیٹی واقعے کی تحقیقات مکمل کرے گی اور سفارشات پیش کرے گی۔ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں فیرس ڈیسوکی پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور کچھ بین الاقوامی میچز میں شرکت پر پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔