Islam Times:
2026-07-24@01:06:58 GMT

پاکستان، ترکی اور ایران اسرائیل کے نشانہ پر

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

پاکستان، ترکی اور ایران اسرائیل کے نشانہ پر

اسلام ٹائمز: اسرائیل بیک وقت پاکستان، ترکی اور ایران کے خلاف کاروائی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے تاہم اسرائیل مغربی ایشیائی ممالک میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو بڑھانے کے لئے پراکسی ریاستوں کے ذریعہ پاکستان، ترکیہ اور ایران جیسے اسلامی ممالک کے خلاف سرگرم ہے، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ تینوں ممالک مل کر ایک مضبوط اتحاد تشکیل دیں تاکہ اسرائیل کی براہ راست اور بالواسطہ جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

مغربی ایشیاء سمیت جنوبی ایشیاء اور بحیرہ روم ایسے علاقے ہیں جہاں تقریبا ایک صدی سے استعماری قوتیں محاذ آرائی کے ذریعہ علاقائی حکومتوں کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی ومعاشی مفادات کے حصول کے لئے سرگرم ہیں۔ اس عنوان سے سنہ 1948ء کے بعداسرائیل کے وجود نے اس خطے کو مزید خطرات سے دوچار کیا ہے۔ فلسطین پر اسرائیل کا غاصبانہ تسلط ہمیشہ سے صرف فلسطین تک باقی نہیں رہا بلکہ تسلط سے قبل اور بعد میں ہمیشہ گریٹر اسرائیل کے لئے یعنی توسیع پسندی کے لئے کوشش کی جاتی رہی ہے۔

اس مقصد کے حصول کے لئے خطے میں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل نے جس ڈاکٹرائن کو متعارف کروایا یا یوں کہہ لیجئے کہ جس ڈاکٹرائن پر عمل کیا اسے اسرائیل کی قومی سلامتی کا نظریہ، جسے عام طور پر پیرامیٹرک سکیورٹی ڈاکٹرائن کہا جاتا ہے۔ اس ڈاکٹرائن کے مطابق اسرائیل ایک ایسی حکمت عملی پر عمل کرتا ہے کہ جس کے ذریعہ اپنے دشمن یا مخالف نظریاتی ممالک کو دور سے ہی کمزور، مصروف یا محدود رکھے۔ اس پس منظر میں بعض تجزیہ کار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسرائیل نے مختلف وقتوں میں پراکسی ریاستوں، گروہوں یا سفارتی اتحادوں کے ذریعے ایران، ترکی اور پاکستان کے جیو پولیٹیکل اثر کو کمزور رکھنے کی کوشش کی ہے۔ یعنی جنوبی ایشیاء، غرب ایشیاء اور بحیرہ روم کو براہ راست متاثر کیا ہے۔

پیرامیٹرک سکیورٹی ڈاکٹرائن کیا ہے ؟اس ڈاکٹرائن کے بنیادی اصولوں میں ڈیٹرنس (Deterrence)،ابتدائی دفاع (Pre-emption)، بیرونی خطرات کو دور رکھنا (Forward Defense Against Adversaries)، علاقائی بیلنس (Balance of Power) کو اپنے حق میں رکھنا ان اصولوں کے تحت اسرائیل نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ خطے میں طاقتور مسلم فوجی ممالک نہ ابھر سکیں اور دشمن ریاستیں سیاسی اور دفاعی طور پر مصروف رہیں اور انہیں سفارتی سطح پر تنہا کیا جائے۔ پاکستان سے بھی اسرائیل کی دشمنی کی چند ایک اہم وجوہات میں پاکستان کا ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط فوج کا حامل ہونا اور اسی طرح پاکستان کی نظریاتی بنیادوں میںفلسطین کاز کی حمایت اور اسرائیل کو غاصب اور ناجائز وجود قرار دینا ہے۔

جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو ایران اسرائیل کی ڈاکٹرائن میں براہِ راست اسٹریٹیجک حریف ہے، خصوصاً لبنان میں حزبُ اللہ، فلسطین میں حماس/اسلامی جہاد سمیت شام کے محاذ پر اسرائیل مخالف حکمت عملی اسرائیل کے لئے ناقابل قبول ہے۔ ایران بھی اس وقت پاکستان کی طرح اسلامی ملک ہے کہ جس نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ ساتھ ساتھ ایران بھی فوجی و عسکری قوت میں اضافہ کر رہا ہے اور میزائل ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کر تے ہوئے جوہری میدان میں بھی ترقی کا سفر طے کر رہا ہے، یہ سب کچھ اسرائیل کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔

اب اگر ترکیہ کی بات کریں تو ترکی 2002ء سےفلسطین کے بیانیے کو از سر نو اٹھا رہا ہے، اسی طرح مشرقی بحیرۂ روم میں گیس اور بحری برتری نے بھی اسرائیل کے لئے مشکلات پیدا کی ہیں۔ حالانکہ ترکی اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات بھی ہیں۔ اخوان المسلمین کی سیاسی حمایت بھی اسرائیل کے لئے مشکلات میں شمار ہوتی ہے۔ ان تمام وجوہات کے باعث ترکی اسرائیل کے ساتھ نرم ٹکراؤ میں رہا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اسرائیل اپنی ڈاکٹرائن کے ذریعہ ان تین ممالک یعنی پاکستان، ایران اور ترکیہ کو کنٹرول کرنے کے لئے کون سے حربے استعمال کر رہا ہے۔ یا یہ کہہ لیجئے کہ کون سی پراکسی ریاستوں کے ذریعہ ان تین مسلمان ممالک کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

غاصب صیہونی ریاست اسرائیل پیرامیٹرک سکیورٹی ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پاکستان کو بھارت، امریکہ، یورپی یونین، آج کل افغانستان اور سعودی عر ب کے ذریعہ کنٹرول کرنے یا الجھانے کی کوشش کررہا ہے۔ اسی طرح ایران کے خلاف امریکہ، یورپی یونین، سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اسرائیل کے بڑے کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ترکی کے خلاف اسرائیل کے پاس یونان اور قبرض مضبوط ہتھکنڈے ہیں اور ساتھ ساتھ مصر سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ اسرائیل اپنی ڈاکٹرائن کے ذریعہ براہِ راست جنگ یا عسکری تصادم سے زیادہ پراکسی بلاکس اور اتحادی نظام کو استعمال کرنے پر ترجیح دیتا ہے۔

اسرائیل نے امریکہ کے پالیسی سازی کے حلقوں پر اثرانداز ہونے کے لیے خاص تھنک ٹینکس جیسے فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز (FDD) کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا ہے تاکہ یہ تاثر مضبوط ہو کہ ایران کے خلاف عسکری اقدام ہی ایک قابلِ عمل حل ہے۔ اسی لابنگ اور بیانیاتی دباؤ کے نتیجے میں واشنگٹن نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ (Maximum Pressure) کی پالیسی اختیار کی۔ اس دوران تل ابیب مسلسل ایسی انٹیلی جنس معلومات امریکہ کو فراہم کرتا رہا ہے جن کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کو فوری نوعیت کے عالمی خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسرائیل کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ اگر کسی فوجی کارروائی کی نوبت آئے تو اسے امریکی بحریہ اور فضائیہ انجام دے، تاکہ اسرائیل کو طویل علاقائی جنگ کے مالی اور انسانی بوجھ سے محفوظ رکھا جا سکے۔


پاکستان کے جوہری اور دفاعی توازن کو چیلنج کرنے کے لیے اسرائیل نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو ایک تزویراتی پلیٹ فارم کے طور پر تشکیل دیا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے بھارت کو دی جانے والی عسکری ٹیکنالوجی محض دفاعی نوعیت کی نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف جارحانہ برتری فراہم کرتی ہے۔ اس تعاون کا نمایاں ترین نمونہ باراک (Barak-8) میزائل سسٹم ہے، جو دونوں ممالک کی مشترکہ پیداوار ہے اور جنوبی ایشیا میں کروز میزائلوں اور جنگی طیاروں کے خلاف ایک مضبوط دفاعی پرت تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فالکن اے ڈبلیو اے سی ایس (Phalcon AWACS) نے بھارت کی فضائی نگرانی کی صلاحیت کو پاکستان کی حدود کے اندر گہرائی تک بڑھایا ہے۔

مزید برآں اسرائیل نے بھارت کو ہیرون ٹی پی (Heron TP) جیسے مسلح ڈرونز اور اسپائس 2000 (Spice-2000) سمارٹ گولہ بارود فراہم کیا، جن کا استعمال پاکستان کے خلاف بالاکوٹ جیسے واقعات اور 2025 کی محدود جھڑپوں میں دیکھا گیا۔ تاہم سب سے اہم پہلو انٹیلی جنس اور سائبر تعاون ہے۔ اس ضمن میں اسرائیل نے بھارت کو پیگاسس (Pegasus) جیسے جاسوسی سافٹ ویئر اور سائبر وارفیئر کے اوزار دیئے، جو حساس اداروں میں دراندازی، نگرانی اور دفاعی نیٹ ورک کی کمزوریاں تلاش کرنے کے لیے استعمال ہوئے۔ مجموعی طور پر یہ تعاون پاکستان کو مستقل دفاعی مصروفیت میں رکھ کر مشرقی محاذ پر اسٹریٹیجک دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ڈیزائن شدہ ہے۔

ترکیہ کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر کو محدود کرنے کے لیے اسرائیل نے یونان اور قبرص کے ساتھ بحیرۂ روم میں دفاعی معماری تشکیل دی ہے۔ اسرائیل نے یونان کے ساتھ 1.

65 بلین ڈالر کا ایک دفاعی معاہدہ کیا، جس کے تحت یونانی فضائیہ کے لیے ایک بین الاقوامی فلائٹ ٹریننگ سینٹر قائم کیا جا رہا ہے، جہاں اسرائیلی جنگی حکمتیں اور تکنیکیں یونانی پائلٹوں کو منتقل کی جاتی ہیں تاکہ وہ ترکیہ کے خلاف زیادہ مؤثر ہوں۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے یونان کو اسپائک این ایل او ایس (Spike NLOS) میزائل سسٹم فراہم کیا ہے، جو بحری اور زمینی اہداف کو انتہائی درستی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بحیرۂ روم میں ترکیہ کے توانائی سے متعلق بحری منصوبوں کو محدود کرنے میں استعمال ہو سکتا ہے۔

قبرص کو بھی جدید ریڈار، فضائی نگرانی اور آئرن ڈوم طرز کے دفاعی نظام کی فراہمی کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ وہ ترکیہ کے ڈرونز اور بحری صلاحیتوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو سکے۔ اسرائیل، یونان اور قبرص کے درمیان انٹیلی جنس اشتراک کا ایک مربوط نظام وجود میں آ چکا ہے جو مشرقی بحیرۂ روم میں ترکیہ کی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کرتا ہے اور انقرہ کو کسی بھی مہم جوئی سے قبل محتاط فیصلوں پر مجبور کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل بیک وقت پاکستان، ترکی اور ایران کے خلاف کاروائی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے تاہم اسرائیل مغربی ایشیائی ممالک میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو بڑھانے کے لئے پراکسی ریاستوں کے ذریعہ پاکستان، ترکیہ اور ایران جیسے اسلامی ممالک کے خلاف سرگرم ہے، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ تینوں ممالک مل کر ایک مضبوط اتحاد تشکیل دیں تاکہ اسرائیل کی براہ راست اور بالواسطہ جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پراکسی ریاستوں اسرائیل کے لئے ایران کے خلاف ڈاکٹرائن کے اسرائیل نے اسرائیل کی کہ اسرائیل پاکستان کے ساتھ ساتھ کی صلاحیت اور ایران ترکی اور کے ذریعہ ترکیہ کے نے بھارت کوشش کی جاتا ہے کے ساتھ کرنے کے کے لیے رہا ہے ہے اور بھی اس کیا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل