ملک کے مختلف حصوں میں شدید دھند، موٹر ویز بند، پروازیں تاخیر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور/کراچی/پشاور: سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں شدید دھند کے باعث ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو گئی ہے جبکہ مختلف موٹر ویز کو حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے کے سبب بند کر دیا گیا ہے۔
موٹر وے پولیس کے مطابق دھند کے باعث حدِ نگاہ کم ہونے پر ایم ٹو ٹھوکر نیاز بیگ سے چکری، ایم تھری فیض پور سے درخانہ اور ایم فور پنڈی بھٹیاں سے شیر شاہ تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایم فائیو شیر شاہ سے سکھر اور ایم فورٹین انجرا سے عیسیٰ خیل تک بھی ٹریفک معطل ہے۔
سندھ کے مختلف علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جہاں سیہون سے لاڑکانہ کے درمیان مختلف مقامات پر حدِ نگاہ 10 سے 30 میٹر تک محدود ہو چکی ہے، جس کے باعث گاڑیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب لاہور میں شدید دھند کے باعث فضائی آپریشن بھی متاثر ہوا ہے، بیرونِ ملک جانے والی متعدد پروازیں تاخیر کا شکار ہیں جبکہ فلائٹ شیڈول جزوی طور پر متاثر ہوا ہے۔
ادھر بہاولپور کے علاقے سمہ سٹہ کے قریب دھند کے باعث افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جہاں ٹرک کی موٹر سائیکل کو ٹکر لگنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
موٹر وے پولیس اور انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، رفتار کم رکھیں اور فوگ لائٹس کا استعمال یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دھند کے باعث
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔