ایس ای سی پی کی اصلاحات سے کاروباری رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ، شفافیت بہتر
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
پاکستان کے کارپوریٹ ریگولیٹر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی ڈیجیٹل اور انتظامی اصلاحات مثبت نتائج لارہی ہیں۔
رواں برس کمپنیوں کی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ اور کاروباری شفافیت میں بہتری آئی ہے۔ ماضی میں ادارے کو قومی سطح پر وزیرِ اعظم نے “ریفارمز چیمپئن” کے اعزاز سے بھی نوازا۔
کمیشن کے مطابق اصلاحات کے بعد کاروبار شروع کرنے کے عمل میں آسانی پیدا ہوئی، اصلاحات کے نتیجے میں کاروبار سے منسلک تعمیلی اخراجات کم ہوئے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے مطابق سال 2020 کے مقابلے میں کمپنی رجسٹریشن میں 51 فیصد اضافہ ہوا، مالی سال 2024–25 کے دوران 35,087 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ گزشتہ سال 27,542 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں جبکہ رواں مالی سال میں جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران 21,542 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
99.
کمپنیاں ایس ای سی پی کے ای زی فائل نظام کے ذریعے رجسٹر کی جا رہی ہیں، ای زی فائل نظام فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ای او بی آئی اور صوبائی محکموں سمیت مختلف اداروں سے منسلک ہے۔ حکومت کے ون ونڈو نظام کے ساتھ انضمام کے بعد اندراج کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔
ڈیجیٹل نظام سے مختلف دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت ختم، وقت و لاگت میں نمایاں کمی آئی۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے اقدامات کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔