وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد عالمی سیاست ایک نئے اور غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، مگر اس بحران کا سب سے خطرناک رخ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بین الاقوامی قانون کے بارے میں اظہارِ خیال اور اس کے بعد سامنے آنے والی عالمی تنظیموں سے امریکا کے انخلا کے فیصلے سے نمودار ہوا ہے۔

8 جنوری 2026 کو صدر ٹرمپ نے ’نیویارک ٹائمز‘ کے انٹرویو میں کہا ’مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں ہے، میری اپنی اخلاقیات ہی وہ واحد چیز ہیں جو مجھے روکتی ہیں۔‘

مزید پڑھیں: کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں، صدر ٹرمپ

یہ بیان عالمی قانونی ڈھانچے کے مقام اور اس کی اہمیت پر شدید سوال کھڑے کرتا ہے، خاص طور پر جب ایک عالمی طاقت خود ان قواعد کی پابندی کو ثانوی قرار دے رہی ہو۔

اسی تناظر میں، 8 جنوری 2026 کو امریکی حکومت نے ایک صدارتی یادداشت (Executive Memorandum) پر دستخط کر کے اعلان کیاکہ امریکا 66 اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں سے دستبردار ہو رہا ہے، بشمول 31 اقوام متحدہ کے تحت آت‍ے ہوئے اداروں اور 35 غیر اقوام متحدہ تنظیموں۔

اس کا مقصد وہ ادارے بتائے گئے ہیں جو ریاستہائے متحدہ کے مفادات، سلامتی، معاشی خوشحالی یا خودمختاری کے خلاف کام کرتے ہیں۔

امریکہ کا انخلا: کون سی تنظیمیں؟

یہ فیصلہ اقوام متحدہ کے ساتھ امریکی شمولیت کی ایک بڑی تنزلی کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے۔ اس فہرست میں متعدد ایسے اہم ادارے شامل ہیں جو عالمی مسائل پر تعاون اور انسانی فلاح و بہبود کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، جن میں:

اقوام متحدہ کا سب سے بڑی ماحولیاتی معاہدہ، UN Framework Convention on Climate Change (UNFCCC)

UN Population Fund (UNFPA)

Intergovernmental Panel on Climate Change (IPCC)

بین الاقوامی جمہوریت اور انتخابی معاونت ادارے

انسانی حقوق اور بچوں کی حفاظت سے متعلق مختلف یو این آفسز

امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان اداروں میں حصہ لینا بند کرے گا اور مالی تعاون بھی ختم کرے گا، جنہیں وہ اپنے قومی مفاد کے خلاف سمجھتا ہے۔

بین الاقوامی ردعمل اور تنقیدی مبصرین

ذاتی اخلاقیات کو بین الاقوامی قوانین پر فوقیت دینے کے ٹرمپ کے مؤقف پر عالمی اور قانونی ماہرین نے سخت تنقید کی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کی ترجمان راوینا شمداسانی نے کہاکہ یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کے ایک بنیادی اصول کو کمزور کرتی ہے اور دنیا کو پہلے سے زیادہ غیر محفوظ بناتی ہے۔ عالمی برادری کو ایک آواز ہو کر اس کی مخالفت کرنا ہوگی۔

یہ بیان ریاستوں کی خودمختاری اور قانونی اصولوں کے تحفظ کے حوالے سے ماہرین کی گہری تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی طرح آکسفورڈ یونیورسٹی کے بین الاقوامی قانون کے ماہر جانینا دل، ڈیم لوئز رچرڈسن اور دیگر نے لکھا ہے، ’یہ نتیجہ ناگزیر ہے کہ امریکا نے 2026 کا آغاز ایک خودمختار ریاست کے خلاف ایسی فوجی جارحیت سے کیا جس کے لیے کوئی واضح قانونی جواز موجود نہیں تھا۔ قانون سے کھلی بغاوت عالمی نظام کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔‘

عالمی انخلا کا مطلب اور نتائج

صدر ٹرمپ کی قیادت میں یہ فیصلہ عالمی سطح پر امریکا کی جانب سے روایتی ملٹری اور سیاسی اتحادوں سے علیحدگی کی ایک نئی شروعات ہے۔ ایک طرف جہاں امریکا قانون کو لازمی نہیں سمجھنے کا اعلان کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف وہ عالمی اداروں اور ان کے مشترکہ قوانین سے باہر نکل رہا ہے۔

یہ صورتِ حال عالمی انتظار، تعاون، ماحولیاتی معاہدوں، انسانی حقوق کے اقدامات اور اقتصادی ترقیاتی پروگراموں پر ایک واضح اثر ڈال سکتی ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کا تجزیہ ہے کہ اگر ایک بڑی طاقت بین الاقوامی قوانین اور تنظیموں کو اپنے مفاد کے تابع سمجھنے لگے، تو اس سے متعدد چیلنجز سامنے آئیں گے جیسا کہ قانون پر مبنی عالمی تعاون میں کمی، عالمی مسائل (مثلاً موسمیاتی تبدیلی، وبائی امراض، انسانی حقوق) کے حل میں رکاوٹ اور دیگر ممالک کی خود ساختہ ترجیحات اور طاقت کے حصول کے لیے مسابقت میں اضافہ۔

صدر ٹرمپ کا بین الاقوامی قانون غیر ضروری بیان اور 66 تنظیموں سے انخلا واضح طور پر ایک ایسے عالمی نظم و نسق کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں ذاتی اخلاقیات اور ملکی مفاد کو قانونی ضوابط کی جگہ دی جا رہی ہے، جس سے موجودہ عالمی اصولوں اور اداروں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

صدر ٹرمپ کے بیان پر عالمی ردعمل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ کہنا کہ وہ بین الاقوامی قانون کو اپنے لیے ضروری نہیں سمجھتے، عالمی سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ اس بیان پر اقوام متحدہ، بین الاقوامی قانون کے ماہرین اور معروف تجزیہ کاروں نے کھل کر تنقید کی ہے اور اسے عالمی نظام کے لیے خطرناک رجحان قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں ججوں اور وکلا کی آزادی سے متعلق خصوصی نمائندہ مارگریٹ سیٹرویتھ نے 9 جنوری 2026 کو الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہاکہ اگر کوئی ریاست واقعی سنگین اقدامات کرنے پر تُلی ہو تو بین الاقوامی قانون اکیلا اسے روک نہیں سکتا، لیکن اگر ہم موجود قانون پر اصرار ہی چھوڑ دیں تو ہم ایک نہایت خطرناک ڈھلوان پر پھسلنا شروع ہو جائیں گے، جس کا انجام کہیں زیادہ تباہ کن ہو گا۔‘

ان کے مطابق ٹرمپ کا بیان عالمی قانون کی اخلاقی اور قانونی حیثیت کو کمزور کرتا ہے۔

بین الاقوامی قانون کی ماہر اور یونیورسٹی آف مانچسٹر کی اسسٹنٹ پروفیسر یُسرٰی سویدی نے بھی 9 جنوری 2026 کو الجزیرہ سے گفتگو میں خبردار کیاکہ یہ بیان نہایت خطرناک پیغام دیتا ہے، کیونکہ اس سے دوسرے ممالک کو بھی عملی طور پر یہ اجازت مل جاتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کریں، خصوصاً چین اور روس جیسے طاقتور ممالک۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ فکر سے عالمی سطح پر طاقت کو قانون پر فوقیت ملنے کا رجحان مضبوط ہو سکتا ہے۔

عالمی سیاسی قیادت نے بھی اس بیان پر ردعمل دیا ہے۔ برطانیہ کے وزیرِاعظم کئیر اسٹارمر نے عالمی ردعمل کے دوران کہاکہ ہمیں ہر حال میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنی چاہیے، کیونکہ یہی عالمی استحکام اور اعتماد کی بنیاد ہے۔ ان کا یہ بیان ٹرمپ کے مؤقف کے بالکل برعکس سمجھا جا رہا ہے۔

ایسے اقدامات دنیا کو ایک خطرناک سمت میں دھکیل سکتے ہیں، صدر برازیل

برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا نے اس موقع پر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی ملک پر حملہ کرنا تشدد، افراتفری اور عدم استحکام کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے، ان کے مطابق ایسے اقدامات دنیا کو ایک خطرناک سمت میں دھکیل سکتے ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے بھی واضح کیاکہ ہر صورت میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: ’امریکا فرسٹ‘ پالیسی: صدر ٹرمپ کا امریکا کو 66 بین الاقوامی اور عالمی تنظیموں سے الگ کرنے کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک ملک کی جانب سے قانون سے انحراف پورے عالمی نظام کو کمزور کر سکتا ہے۔

مجموعی طور پر عالمی مبصرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کا یہ مؤقف محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو قانون پر مبنی عالمی نظام کے لیے سنجیدہ خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اگر طاقتور ممالک بین الاقوامی قانون کو غیر ضروری قرار دینے لگیں تو اس کا نتیجہ ایک ایسے عالمی منظرنامے کی صورت میں نکل سکتا ہے جہاں طاقت ہی حق کا معیار بن جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

WENEW wenews امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی قوانین سے انحراف وی نیوز وینزویلا فوجی کارروائی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی قوانین سے انحراف وی نیوز وینزویلا فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کے بین الاقوامی قانون کی اقوام متحدہ کے جنوری 2026 کو اور قانونی عالمی نظام سے عالمی قانون کو کرتا ہے ٹرمپ کا ٹرمپ کے رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی