ٹرمپ نے گرین لینڈ پر خفیہ حملے کی تیاری کا حکم دے دیا، برطانوی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
ٹرمپ نے گرین لینڈ پر خفیہ حملے کی تیاری کا حکم دے دیا، برطانوی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 11 January, 2026 سب نیوز
برطانوی میڈیا نے ایک ایسا دھماکہ خیز دعویٰ کر دیا ہے جس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کے سب سے ایلیٹ یونٹ جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کو گرین لینڈ پر ممکنہ فوجی کارروائی اور قبضے کا خفیہ منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔
برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے سخت گیر حلقے جن کی قیادت اسٹیفن ملر کر رہے ہیں، حالیہ خفیہ آپریشنز کی کامیابی کے بعد اس قدر پرجوش ہیں کہ اب آرکٹک کے اس اسٹریٹجک جزیرے کو بھی طاقت کے ذریعے امریکی اثر و رسوخ میں لانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
تاہم امریکی نظام کے اندر ہی شدید مزاحمت سامنے آ گئی ہے رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے اعلیٰ جنرلز اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے اس منصوبے کو کھلے الفاظ میں غیر قانونی، ناقابلِ عمل اور تباہ کن قرار دے دیا ہے۔
عسکری قیادت کا مؤقف ہے کہ نہ تو کانگریس اس کی اجازت دے گی اور نہ ہی نیٹو اس کے نتائج برداشت کر سکے گا۔
ذرائع کے مطابق اس ممکنہ منصوبے کے پیچھے تین بڑے مقاصد بتائے جا رہے ہیں، جس میں امریکا میں معاشی دباؤ سے عوام کی توجہ ہٹانا، مڈٹرم انتخابات سے قبل ایک بڑی فتح دکھانا اور آرکٹک میں روس اور چین کے بڑھتے اثر کو روکنا شامل ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیل نے صومالیہ کی بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں پر براہ راست حملہ کیا: اسحاق ڈار اسرائیل نے صومالیہ کی بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں پر براہ راست حملہ کیا: اسحاق ڈار ایس ای سی پی کی اصلاحات سے کمپنی رجسٹریشن میں ریکارڈ اضافہ، شفافیت اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال مجاہد گروپ آف انڈسٹریز نے ملک میں خوردنی تیل کے سب سے بڑے امپورٹر کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا ایران پر حملہ؟ ٹرمپ انتظامیہ فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ اسلام آباد: جی سیون ٹو میں شادی کی تقریب کے دوران سلنڈر دھماکہ، دلہا دلہن سمیت 6 افراد جاں بحق آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ 2026 کیلیے تمام 16 ٹیموں نے حتمی اسکواڈز کا اعلان کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔