خیبرپختونخوا، تیزی رفتاری کے باعث جان لیوا حادثے میں 5 افرادجانبحق
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
خیبر ضلع میں بابِ خیبر کے قریب ایک گاڑی اور ٹرک کے درمیان زوردار تصادم میں 5 افراد ہلاک ہو گئے۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ تمام زخمی موقع پر دم توڑ گئے اور ان کی لاشیں بعد میں ہسپتال منتقل کی گئیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق یہ حادثہ خیبر کے مرکزی سڑک پر اس وقت پیش آیا جب ایک گاڑی، جو مبینہ طور پر تیز رفتاری میں تھی، مخالف سمت سے آتے ہوئے ٹرک سے جا ٹکرائی۔ تصادم کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور پانچ افراد موقع پر ہلاک ہو گئے۔
ریسکیو ٹیمیں اطلاع ملتے ہی جائے حادثہ پر پہنچیں اور مرحلہ وار لاشیں قریبی اسپتال منتقل کی گئیں تاکہ میڈیکل اور قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی بنیادی وجہ مبینہ طور پر رفتار کی زیادتی ہے۔
یہ حادثہ چکوال ضلع میں پیش آنے والے ایک حادثے کے ۳ دن بعد ہوا، جس میں بھی ایک بس کھائی میں گرنے سے ۵ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان میں اس طرح کے حادثات عام ہیں اور زیادہ تر ڈرائیور کی غفلت، سڑکوں کی خراب حالت یا موسم کی شدت کے باعث ہوتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔